اب کوئی اسلحہ چھپ نہیں سکے گا، ڈرون پولیسنگ سے سخت نگرانی ہوگی

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں اسلحے کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اب لائسنس یافتہ اسلحہ بھی سخت نگرانی میں رہے گا، جبکہ غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کے لیے شہریوں کو 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلحہ لائسنس کے اجرا اور ملکیت دونوں کی ازسرِنو تصدیق کی جائے گی، تاکہ مشکوک اندراجات اور غیر قانونی منتقلی کا سراغ لگایا جا سکے۔ جاری کیے گئے لائسنسوں کی مکمل چھان بین بھی کی جائے گی، اور اس سلسلے میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کی تجویز زیر غور ہے۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ صرف پولیس اہلکار اور رجسٹرڈ سیکیورٹی گارڈ ہی عوامی مقامات پر اسلحہ رکھ سکیں گے۔ صوبے بھر میں جدید ڈرون پولیسنگ متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، تاکہ اسلحہ بردار عناصر پر فوری نظر رکھی جا سکے۔

ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی، سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر صوبے کو اسلحہ سے پاک کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک قتل کے واقعات میں 49 فیصد اور گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 62 فیصد کمی آ چکی ہے۔

چٹھہ نے امید ظاہر کی کہ غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے بعد جرائم میں 75 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شہری رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرائے گا تو اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

سی سی ڈی کی جانب سے واضح کیا گیا کہ صوبے میں جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا چکی ہے اور پولیس کے ساتھ مربوط آپریشنز کے ذریعے قانون شکن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی۔

Related Posts