پرائیویٹ ایل این جی درآمد نہ کرنے سے عوام کو بھاری نقصان ہو رہا ہے،میاں زاہد

تازہ ترین

تازہ ترین

فوج کے خلاف پروپیگنڈہ مہم پر قانونی کارروائی کی جائے،میاں ز اہد حسین
فوج کے خلاف پروپیگنڈہ مہم پر قانونی کارروائی کی جائے،میاں ز اہد حسین

کراچی:ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ نجی شعبوں کو ایل این جی کی درآمد سے دور رکھنے سے حکومت اور عوام کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

نجی شعبوں سے بھاری سرمایہ کاری کروانے کے بعد انھیں ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جس سے عوام سستے ایندھن سے محروم ہو رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو مہنگی گیس خریدنی پڑ رہی ہے جس سے صنعت اور زراعت متاثر ہو رہی ہے۔

میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں اور انہیں گیس درآمد کرنے کی اجاز ت دی جائے تو عوام کو اربوں روپے کا ریلیف ملے گا جبکہ حکومت کو ٹرمینل چارجز کی مد میں بھاری آمدنی ہو سکتی ہے جسے گنوایا جا رہا ہے۔

ایل این جی کی درآمد کے معاملات کو بے حد پیچیدہ بنادیا گیا ہے جس کی وجہ سے موسم سرما میں سینکڑوں کارخانوں، ہزاروں سی این جی ا سٹیشنز اور ہزاروں ایس ایم ایز کو بند کرنا پڑتا ہے جس سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو جاتے ہیں جبکہ آئل امپورٹ بل بھی بڑھ جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرخ فیتے اور دیگر معاملات کی وجہ سے سرکاری ادارے ایل این جی کی خریداری کے فیصلے میں مہینوں ضائع کر دیتے ہیں جبکہ نجی شعبے یہی کام چند گھنٹے میں کر سکتا ہے مگر اسے کام نہیں کرنے دیا جاتا۔

اسی طرح نہ توموجودہ ٹرمینلزکی استعداد بڑھانے کے بارے میں کوئی واضع پالیسی بنائی گئی ہے اور نہ ہی نجی شعبے کو تیسرا ٹرمینل بنانے دیا جا رہا ہے۔تمام متعلقہ معاملات کا احاطہ کرنے والی پالیسی موجود ہی نہیں ہے جس سے مسائل جنم لے رہے ہیں جبکہ بعض عناصر کو کھیل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے جس کا ساراوزن عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تمام ممالک کو سپلائی ہونے والے ایل این جی کا70فیصد حصہ 11 کثیر القوامی کمپنیاں کنٹرول کرتی ہیں جبکہ جو ممالک کرپشن کیلئے مشہور ہیں ان میں یہ کمپنیاں کام نہیں کرتیں ہیں۔ ایسے ممالک میں ایل این جی کی سپلائی کا کام ٹریڈر کرتے ہیں۔ اگر پاکستان ایل این جی کے معاملات میں شفافیت لائے تو یہ کمپنیاں براہ راست سستے نرخ پر ایل این جی سپلائی کر سکتی ہیں۔

Related Posts