شمالی کوریا کی حکومت نے ہالی ووڈ فلم دیکھنے پر پابندی عائد کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

سیول: شمالی کوریا کی کم جونگ اُن حکومت نے ہالی ووڈ فلم دیکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے بچوں کو بھی فلمی مواد سے دور رکھنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شمالی کوریا کی حکومت نے والدین کو دھمکی دی ہے کہ اگر بچوں کو ہالی ووڈ فلمز دیکھتے ہوئے پکڑ لیا تو سخت سزا دیں گے۔ والد کو 6 ماہ تک لیبر کیمپ میں رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

عفت عمر اور علی ظفر کے درمیان ٹوئٹر پر جنگ چھڑگئی

شمالی کورین حکومت کا کہنا ہے کہ اگر بچے فلم دیکھتے ہوئے پکڑے گئے تو 5 سال تک سماجی خدمات سرانجام دینے پر لگا دیا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا (ریڈیو فری ایشیا) نے رپورٹ جاری کردی۔

شمالی کورین عوام کی حالتِ زار

بظاہر شمالی کورین حکومت کی جانب سے ہالی ووڈ فلمز پر پابندی اصلاحی اقدام دکھائی دیتا ہے تاہم شمالی کوریا کے شہری بہت سے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیں جن میں آزادئ اظہارِ رائے بھی شامل ہے۔

حکومت کے خلاف رائے دینے پر سخت ترین سزائیں اور پھانسی تک دے دی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ تک رسائی اور عام معلومات کو بہت زیادہ کنٹرول کیا جاتا ہے۔ سرکاری اجازت کے بغیر ملک سے باہر بھی نہیں جایا جاسکتا۔

مذہبی سرگرمیاں تک سختی سے کنٹرول کی جاتی ہیں۔ صرف منظور شدہ مذہبی تنظیمیں ہی شمالی کوریا میں متحرک ہیں۔ تعلیم انتہائی محدود اور حکومت کے جھوٹے پراپیگنڈے سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔

عوام سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ لوگ سرکاری صنعتوں میں کام کرنے پر مجبور کیے جاتے ہیں اور کوئی تنخواہ یا تو دی نہیں جاتی یا پھر انتہائی کم اجرت ملتی ہے۔خوراک اور طبی وسائل کی تقسیم پر بھی پابندیاں ہیں۔

لوگوں کی بنیادی خدمات مثلاً بجلی اور پانی تک رسائی محدود ہے۔ شہریوں کو زبردستی ان کے خاندانوں سے الگ کردیا جاتا ہے۔ ملک کے ایک حصے سے دوسرے میں کام کیلئے کسی بھی وقت بھیجا جاسکتا ہے۔

Related Posts