اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جمعے کو ہوا، جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ، اجلاس میں امریکا میں تعینات سابق پاکستانی سفیر اسد مجید نے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے پر بریفنگ دی۔
تفصیلات کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اس اجلاس میں امریکا میں تعینات رہنے والے سابق پاکستانی سفیر اسد مجید اور اعلٰی سول و ملٹری حکام شریک ہوئے جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیرمملکت برائے امورخارجہ حنا ربانی کھر شامل ہیں۔
شہباز شریف کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں امریکا میں سابق سفیر اسد مجید نے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے پر بریفنگ دی۔
مذکورہ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ اداروں نے مراسلے کی تحقیقات کیں، دوران تحقیقات غیرملکی سازش کے ثبوت نہیں ملے،سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی۔
امریکا میں پاکستان کےسابق سفیر اسد مجید نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی اور بتایا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ٹیلی گرام موصول ہوا، کمیٹی نے اس ٹیلی گرام پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق سکیورٹی ایجنسیز نےقومی سلامتی کمیٹی کو سازش کے ثبوت نہ ملنے سے آگاہ کردیا ہے۔
یاد رہے کہ 27 مارچ 2022 کوسابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں جلسے کے دوران ایک خط لہرا کر دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کو گرانے کی سازش ایک بہت ہی طاقتور ملک کی جانب سے کی گئی۔