بھارتی ریاست ہریانہ میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی ریاست ہریانہ کے مسلم اکثریتی ضلع نوح میں ایک ہفتے کے دوران فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے دیگر قریبی علاقوں میں بھی پھیل گیا۔

ضلع نوح میں بدامنی کا آغاز پیر کو اس وقت ہوا جب انتہا پسندوں نے نئی دہلی سے 75 کلومیٹر جنوب میں واقع مسلم اکثریتی ضلع نوح سے گزرنے والے ایک ہندو مذہبی جلوس پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ واقعے میں چار افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے جبکہ کئی درجنوں گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی تھی۔

نوح پولیس کے ترجمان کرشن کمار نے کہا کہ جلوس کا مقصد ایک مندر سے دوسرے مندر جانا تھا لیکن راستے میں دو گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپوں میں مزید 10 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

کئی کاروں کو نذر آتش کیا گیا اور پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اور ریاستی حکومت نے حالات کو قابو میں لانے کے لیے اضافی نفری طلب کی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوا میں گولیاں چلائیں۔ حکام نے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے اور بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے۔

ہریانہ میں تشدد

ہریانہ میں پر تشدد واقعات کا آغاز پیر31 جولائی کو ہوا جس میں ہندو انتہا پسندوں نے مسجد کو آگ لگاکر امام مسجد کو شہید کردیا،اس کے علاوہ کئی مسلمانوں کی دکانوں میں آگ لگائی اور اُن کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ نوح میں جھڑپوں کے پیچھے سازش کرنے والوں کی مسلسل شناخت کی جا رہی ہےاوع اب تک کل 116 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ضلع میں بڑھتے فسادات کی وجہ سے نئی دہلی سمیت پورے خطے میں سیکیورٹی فورسز کو چوکس کردیاگیا ہے کیونکہ ہندوقوم پسرت گروپوں کی جانب سے مختلف مقامات پر ابھی بھی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

تشدد میں اضافہ کیوں ہوا؟

بتایا جارہا ہے کہ تشدد میں اضافے کی وجہ ایک ویڈیو تھی جس میں نامور ہندو قوم پرست اور قوم پرست دائیں بازو کے گروہ بجرنگ دل کے رہنما مانو مانیسر نے ضلع نوح میں پیر کے روز ہونے والی ریلی میں شرکت کا اعلان کیا۔

جیسے ہی مانیسر کی یہ ویڈیو وائرل ہوئی، اس کے جواب میں مسلم نوجوانوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ انھیں ریلی میں شرکت کرنے نہ دیا جائے اور انھیں فوراََ گرفتار کیا جائے۔

مسلم نوجوانوں کی جانب سے احتجاج کی کال بھی دی گئی ۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی حکومت کو نوٹس لینے کے لیے متنبہ کیا لیکن ہریانہ انتظامیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

فسادات کے بعد ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ نے الزام لگایا کہ جلوس کے شرکاء نے حکام کو پوری طرح سے مطلع نہیں کیا۔ ہریانہ کے وزیر داخلہ انیج وج نے الزام لگایا کہ تشدد پہلے سے سوچا گیا تھا۔

بی جے پی لیڈر اور گروگرام سے ممبر پارلیمنٹ راؤ اندرجیت سنگھ نےجلوس میں شریک افراد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُن کے پاس پہلے سے ہی اسلحہ تھا، انھیں جلوس کیلئے اسلحہ کس نے دیا ۔

ہندومسلم فسادت

2014 میں نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد بھارت میں اکثریتی ہندوؤں اور 20 کروڑ مسلم اقلیتوں کے درمیان متعدد بار پُرتشدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

ناقدین حکمران اور ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلم کمیونٹی کے ساتھ ناروا سلوک کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

سال 2020ء میں صرف نئی دہلی میں ہونے والے مذہبی فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

2002میں جب گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے، اس وقت کم از کم  ایک ہزار افراد مارے گئے تھے جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے فسادات کے دوران مودی کے اقدامات پر ایک دستاویزی فلم نشر کرنے کے بعد بھارتی ٹیکس حکام نے فروری میں بی بی سی انڈیا کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے 2012ء میں تحقیقاتی کمیٹی نے نریندر مودی کو یہ کہہ کر بری الذمہ قرار دیا تھا کہ انہیں مودی کے خلاف شواہد نہیں ملے۔

اس سال فروری میں ہریانہ کے بھیوانی ضلع کے لوہارو پولیس اسٹیشن کے قریب دو مسلمانوں کے جلی ہوئی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن کی شناخت ناصر اورجنید کے نام سے ہوئی تھی اور مانیسر کے نام پر اُن کے قتل کا الزام ہے۔

اپریل 2022 میں مسلمانوں پر تشدد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جسے مانیسر نے شیئر کیا تھا ۔

جہاں پچھلے دو سالوں سے علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی ہے، وہیں ناصر اور جنید قتل کیس کے بعد، خاص طور پر ضلع نوح میں گائے کی حفاظت کے خلاف مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے۔

خطے میں مسلمان شدید پریشان ہیں اور اُن کی جانب سے انتظامیہ سے مسلسل کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

Related Posts