راولپنڈی :اسپتال انتظامیہ اور وارڈن کے رویے نے تھرڈ ایئر کی طالبہ نرس کی جان لے لی، ساتھی طالبات کا شدید احتجاج، اسپتال انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ۔
تھانہ نیو ٹاؤن کی حدود میں تین روز قبل جاں بحق ہونے والی تھرڈ یئر کی اسٹوڈنٹ نرس سمیعہ کی طبیعت خراب تھی تاہم ہاسٹل وارڈن نے چیک اپ کے لئے اسپتال کی ایمرجنسی تک نہ جانے دیا ۔
ساتھی نرسوں نے سمیعہ کی ہلاکت پر بھرپور احتجاج کیا ، مظاہرین کا کہنا ہے کہ شام کی ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر نے بھی سمیعہ کے علاج پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ، ڈاکٹر نے ٹیسٹ کرایا اور کہا یہ ٹھیک ہے ،اس کو لے جائیں یہ خود ہی ٹھیک ہو جائیگی ۔
مشتعل نرسوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز اور اسپتال انتظامیہ نرسز کے ساتھ بھی علاج کے معاملے میں ناروا سلوک رکھتے ہیں ،ڈاکٹروں کی جانب سے ہمیں بھی عام مریضوں کی طرح چیک کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نرسز روزانہ مریضوں کو چیک کرتی ہیں لیکن ڈاکٹر صرف پرچی لکھ کر دیتے ہیں ،ہم کورونا جیسے ماحول میں بھی مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں ،ہمارے پیچھے بھی رونے والے ہیں لیکن ہم پھر بھی عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔
اس سے قبل بھی ہمارے ساتھ ایسے حادثے کا شکار ہو چکی ہیں ہم نہیں چاہتیں کہ مزید ہمارے ساتھ اس قسم کے حادثات پیش آئیں جبکہ انتظامیہ نے تھرڈ یئر کی عینی شاہد دوہا نامی طالبہ کو جو موقع پر موجود تھی اس کو بھی منظرنامے سے غائب رکھا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:سوتیلے باپ کی جنسی زیادتی ،سگی ماں نے شوہر کو بچانے کیلئے بیٹی کو قتل کروادیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








