ڈیڑھ سالہ بچے کو موزمبیق میں بھاری رقم کے عوض بیچ دیا! بیرون ملک اسمگلنگ کی کوشش ناکام

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ میں ایک کمسن بچے کو بیرون ملک اسمگل کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ اس کیس میں گرفتار ملزمہ کرن سہیل اور ایک لیڈی ڈاکٹر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ملزمہ کے ساتھ بازیاب بچہ بھی عدالت میں موجود تھا۔

کیس میں شامل چار دیگر ملزمان پہلے ہی ضمانت پر رہا ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق 9 جون کو کرن سہیل ایک 15 ماہ کے بچے کو جناح ائیرپورٹ سے موزمبیق لے جانے والی تھی جب خفیہ ذرائع نے اطلاع دی کہ بچہ اصل میں اس کا اپنا بیٹا نہیں ہے۔

تحقیقات کے دوران کرن سہیل نے اعتراف کیا کہ بچہ اس کا نہیں ہے اور اسے یاسمین نامی خاتون نے ائیرپورٹ پر اس کے حوالے کیا تھا تاکہ وہ بچے کو اسمگل کرنے میں استعمال کرے۔

ایف آئی اے کے مطابق کرن سہیل کے ساتھ سہولت کاروں میں سہیل، فیصل محمود، چاندنی اور اشرف شامل تھے۔ دستاویزات سے پتہ چلا کہ بچے کو موزمبیق میں بھاری رقم کے بدلے کسی فیملی کو دیا جانا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ کرن کے شوہر سہیل کو موزمبیق میں بچہ اپنے باس کو دینا تھا اور اس مقصد کے لیے ڈاکٹر سے بچے کے لیے 10 سے 12 لاکھ روپے لیے گئے تھے۔

ملزمہ کی وکیل نے عدالت میں کہا کہ کرن سہیل پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں بچے کے کوئی اصل وارث ابھی تک سامنے نہیں آئے اور ملزمہ کے پاس تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں۔

Related Posts