چیٹ جی پی ٹی متعارف کروا کر دیگر کمپنیوں کے لاکھوں ملازمین کو ملازمت سے فارغ کروانے والی اوپن اے آئی نے خود ہزاروں نئے ملازمین کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر تک کمپنی کے ملازمین کی ٹیم بڑھ کر تقریباً دو گنا ہوجائے گی۔ کم و بیش 4 ہزار 500 ملازمین رکھنے والی اوپن اے آئی کے ملازمین 8 ہزار افراد تک بڑھ جائیں گے۔
اوپن اے آئی کی جانب سے ملازمین کی بھرتیوں کا مقصد مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے میں اپنی پیش قدمی کی رفتار برقرار رکھنا اور بڑھانا ہے۔ کمپنی زیادہ تر پروڈکٹ ڈویلپمنٹ، انجینئرنگ، تحقیق اور سیلز کے شعبوں میں بھرتیاں کرے گی۔
دلچسپ طور پر زیادہ تر پروڈکٹ ڈویلپمنٹ، انجینئرنگ اور تحقیق کے ساتھ ساتھ سیلز کے شعبے میں بھی اوپن اے آئی سمیت دیگر کمپینوں کے چیٹ بوٹس اور اے آئی ایجنٹس سے کام لیا جارہا ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی جلد ہی ان شعبوں میں ملازمین کی جگہ لے لے گی۔
تاہم اوپن اے آئی کی جانب سے ملازمین کیلئے چیٹ بوٹس یا ایجنٹس بھرتی کرنے کی بجائے انسانوں کو ملازمت دینے کا عمل ایسے ماہرین کی دلچسپی کا باعث بنے گا جن کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں طب اور انجینئرنگ سمیت ہر شعبے میں ملازمتیں 80 سے 90فیصد تک ختم ہوجائیں گی۔
اوپن اے آئی کا ماننا ہے کہ ٹیکنیکل ایمبیسڈر شپ میں بھی ماہرین کو بھرتی کیا جائے گا، تاکہ کاروباری ادارے اوپن اے آئی کے ٹولز کا بہتر طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ اوپن اے آئی کے تازہ ترین فنڈنگ راؤنڈ سے کمپنی کو 840ارب ڈالرز کی قدر ملتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








