آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمساز حیا فاطمہ کی فلم ایمی ایوارڈ کے لئے نامزد ہوگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

عالمی ایوارڈ یافتہ اور پاکستان کی دستاویزی فلمساز حیا فاطمہ اقبال کی فلم “ایز فار دے کین رن”(As Far They Can Run)شاندار مختصر دستاویزی فلم کی کیٹیگری کیلئے نامزد ہوگئی ہے۔

حیا فاطمہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اسٹوری پوسٹ کرتے ہوئے یہ خوشخبری سُنائی ہے کہ ان کی فلم ایمی ایوارڈز کیلئے نامزد ہوئی ہے۔

آسکرر ایوارڈ یافتہ فلمساز کی مختصر فلم “ایز فار دے کین رن”(As Far They Can Run) بہترین دستاویزی فلم کے ایوارڈ کیلئے نامزد کی گئی ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Community Arts Network (@commartsnetwork)

فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں بتایا کہ مذکورہ فلم میرپورخاص اور اردگرد کے علاقوں میں رہنے والے بچوں کی زندگیوں کے بارے میں ہے جو ذہنی معذوری کا شکار ہیں اور پھر انہیں کھلاڑی بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں ان بچوں اور کوچز کی محنت کو اپنے کام کے ذریعے دنیا کو بتاسکوں تاکہ یہ بچے مزید اونچی اڑان بھر سکیں۔

حیا اقبال نے اپنی انسٹاسٹوری میں یہ بھی بتایا کہ فلم میں شامل ثنا کپری نامی بچے نے گزشتہ ماہ برلن میں ہونے والے خصوصی اولمپکس میں حصہ لیا تھا۔”انہوں نے بتایا کہ”یہ فلم غلام اور سجاول کی کہانیوں پر بھی مبنی ہے جنہیں ان کا اپنا خاندان ذہنی معذوری کے باعث قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اس سے قبل انہوں نے “ہیومنز آف نیویارک” کے ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں کی کہانیاں ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پہنچائی گئی، وہ ڈاکومینٹری ایسوسی ایشن آف پاکستان کی شریک بانی بھی ہیں، حیا کی فلموں نے مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کیے ہیں۔

حیا فاطمہ اقبال معاشرے کی ان کہی کہانیوں پر توجہ دیتی ہیں اور وہ دستاویزی فلموں کے ذریعے اہم سماجی مسائل پر روشنی ڈالتی ہیں، ان کے بہترین تخلیقی کام کی وجہ سے انہیں دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔

Related Posts