لاہوریونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز(لمز)اور سٹی ٹریفک پولیس لاہورکے اشتراک سے ”فی میل رکشہ پروجیکٹ“ کے تحت خواتین کو رکشہ چلانے کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔
ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس منصوبے کو آکسفورڈ یونیورسٹی اوراین آرایس پی،اخوت اورآرسی ڈی پر سمیت سرکردہ مائیکرو فنانس اداروں کا تعاون حاصل ہے۔ منصوبے کے لیے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں عبدالجمیل پاورٹی ایکشن لیب کے جی ای اے اقدام کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی گئی۔
منصوبے کے تحت سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے 35 خواتین کو تربیت دی۔ سی ٹی او لاہور کیپٹن مستنصر فیروز نے خواتین کو ٹریفک قوانین، قوانین اور ڈرائیونگ کی مہارتوں سے روشناس کرانے کے لیے 4 خواتین افسران پر مشتمل ٹیم تعینات کی۔
اسی طرح ٹریفک پولیس نے تربیتی پروگرام سے مستفید ہونے والی خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں بھی سہولت فراہم کی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد خواتین کے لیے آمدنی پیدا کرنے کے مواقع پیداکرنااور محفوظ نقل و حمل یقینی بنانا ہے۔
یہ منصوبہ خواتین رکشہ ڈرائیوروں کے لیے مالی شمولیت کو فروغ دیتا ہے اور ان کی سماجی اور معاشی بہبود میں اہم کردار داد ہے۔ یہ شراکت داری پاکستان کی افرادی قوت میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش اور پائیدار ترقی کے اہداف 2023 سے ہم آہنگ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








