قصور: پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی علاقے مصطفیٰ آباد میں ایک فارم ہاؤس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک غیر اخلاقی پارٹی پر چھاپہ مارا جس میں منشیات اور فحاشی کی شکایات پر کارروائی کی گئی۔
اس پارٹی میں شریک 30 لڑکے اور 25 لڑکیاں پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں، جنہیں مصطفیٰ آباد تھانے منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ پارٹی ایک خفیہ مقام پر منعقد کی گئی تھی جہاں شرکاء کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان تھیں اور وہاں مبینہ طور پر نشہ آور اشیاء، شراب نوشی، تیز موسیقی، اور غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری تھیں۔
فارم ہاؤس کی چار دیواری کے اندر لگنے والی اس پارٹی کے بارے میں مقامی افراد نے شکایات کی تھیں جس کے بعد تھانہ مصطفیٰ آباد کے ایس ایچ او نے اپنی ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مار کر تمام افراد کو حراست میں لیا۔
Pakistan: 30 boys & 25 girls caught at a rave & $£x party in Kasur farmhouse .
Pakistanis go to do this with their own sisters. pic.twitter.com/kxmhuNjkWQ
— Indic Matrix🧊👁️👾 (@IndicMatrix) July 16, 2025
یہ واقعہ میڈیا پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا مگر چند ہی گھنٹوں بعد پولیس افسران پر دباؤ ڈال کر نہ صرف تمام گرفتار شدگان کو رہا کروا لیا گیا بلکہ کارروائی کرنے والے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا۔
معطلی کا حکم بالا حکام کی طرف سے دیا گیا جس پر سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی انتہائی پیشہ ورانہ تھی اور تمام شواہد، ویڈیوز اور منشیات کو موقع سے برآمد کیا گیاتاہم اعلیٰ اداروں کے دباؤ نے انصاف کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








