پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں اور جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان اور بھارت
(فوٹو: انٹرنیشنل بینکر)

دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین قیدیوں اور جوہری تنصیبات و سہولیات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ نئے سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت نے قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا۔ پاکستان میں 257بھارتی قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کیا گیا جبکہ بھارت کی جانب سے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فہرست فراہم کی گئی۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین جوہری تنصیبات کی فہرست کا تبادلہ بھی یکم جنوری کو ہوتا ہے اور دونوں ممالک نے یہ فہرست ایک دوسرے کے حوالے کردی۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت نے جوہری تنصیبات سے متعلق معاہدے پر 31دسمبر 1988 کو دستخط کیے تھے جس کے تحت فہرستوں کا یہ تبادلہ کیا جاتا ہے۔

بریفنگ کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان یمن میں صورتحال معمول پر لانے کیلئے علاقائی کاوشوں کو خوش آئند قرار دیتا ہے جبکہ ہم یمن کے تنازعے کے پر امن حل کے حامی ہیں اور اس معاملے پر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل طور پر یکجہتی کے اظہار کا اعادہ کرتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو الگ ملک تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کا فیصلہ بادی النظر میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرکے صومالی لینڈ کے خطے میں بسانے کی ناپاک خواہش کا مظہر ہے۔

Related Posts