ایف اے ٹی ایف اہداف پر حوصلہ افزاء پیشرفت، پاکستان گرے لسٹ سے کیسے نکلے گا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ایف اے ٹی ایف اہداف پر حوصلہ افزاء پیشرفت، پاکستان گرے لسٹ سے کیسے نکلے گا؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اہداف پر پاکستان نے حوصلہ افزاء پیش رفت کی جس پر یورپی یونین نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے، لیکن پاکستان ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان گرے لسٹ سے کیسے نکلے گا؟ اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اور کتنے اہداف پر پاکستان نے کامیابی سے عمل کر لیا ہے؟ آئیے تمام تر سوالات پر غور کرتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے اہداف اور پاکستان کا عملدرآمد

عالمی واچ ڈاگ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 27 نکات پر مبنی اہداف دئیے تھے جن میں سے 26 نکات پر پاکستان نے عملدرآمد مکمل کرلیا ہے اور اسی بنیاد پر توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان جلد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔

وزارتِ خزانہ ذرائع کی جانب سے آج سے 4 روز قبل یہ خبر پاکستانی میڈیا کی زینت بنی کہ پاکستان کو اب ایف اے ٹی ایف کے صرف ایک ہدف پر کام کرنا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے گزشتہ اجلاس تک پاکستان 24 اہداف پر عمل میں کامیاب ہوا تھا۔

انٹرنیشنل کو آپریشن ریویو گروپ کے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف پلمونری گروپ کیلئے رپورٹ تیاری کے آخری مراحل میں ہے جبکہ گروپ میں امریکا، چین، فرانس، برطانیہ اور بھارت شامل ہیں۔ یہ رپورٹ 21 سے 25 جون تک ہونے والے ایف اے ٹی ایف پلمونری اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

گرے لسٹ میں شمولیت کے 4سال

جون 2018ء میں پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہوا جس سے باہر نکلنے سے متعلق مختلف خبریں وقتاً فوقتاً میڈیا کی زینت بنتی رہیں تاہم تاحال پاکستان گرے لسٹ سے باہر نہیں نکل سکا۔

عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہ اٹھانے پر گرے لسٹ میں شامل کیا تھا جس پر قانون سازی سے لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی۔

اہداف مکمل کرنے کیلئے کارروائیاں

گزشتہ برس فروری میں اپنے ایک اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا کہ اہداف کی تکمیل کیلئے کارروائی تیز کرے اور جون 2020ء تک گرے لسٹ سے نکل جائے، تاہم ایسا نہیں ہوسکا، جس کے بعد پاکستان کو مزید وقت دیا گیا۔

اکتوبر 2020ء کے جائزے کے بعد ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ پاکستان 27 میں سے 21 اہداف پر کامیابی سے عمل کرچکا ہے اور موجودہ صورتحال یہ ہے کہ 27 میں سے 26 نکات پر عملدرآمد کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ 

خیبر پختونخواہ میں چند ماہ کے دوران پاکستان نے 751 افراد کو گرفتار کیا تاکہ ایف اے ٹی ایف کے اہداف پورے کیے جاسکیں۔ کالعدم تنظیم کا لیڈر ذکی الرحمان لکھوی بھی اس دوران گرفتار ہوا۔

کالعدم تنظیم کے کمانڈر ذکی الرحمان کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے جرم میں انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور نے رواں برس جنوری میں 5 سال قید اور 3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی 3 دفعات پر کالعدم تنظیم کے کمانڈر ذکی الرحمان کو پانچ، پانچ سال قید اور 1، 1 لاکھ روپے کی الگ سزا سنائی گئی، تاہم یہ تمام سزائیں ایک ہی وقت میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

ماہرین کی رائے 

عسکری امور اور خارجہ پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پر عالمی برادری پریشر برقرار رکھنا چاہتی ہے تاکہ امریکا ہم سے فوجی اڈے حاصل کر لے، تاہم وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکا کو فوجی اڈے دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ دوسری جانب ایف اے ٹی ایف اہداف پر عملدرآمد کے باوجود پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کی امید کمزور ہورہی ہے۔

ماہرینِ امورِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان کارڈ کھیل کر گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے اور کورونا وائرس کی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے قرضے نہ صرف ری شیڈول بلکہ معاف بھی کرا سکتا ہے، جس کیلئے پاکستان کو امورِ خارجہ کے زیرک سفارتکاروں کی ضرورت پیش آئے گی۔ 

Related Posts