کراچی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مالی سپورت پروگرام کی بحالی کے لیے مذاکرات کر رہا ہے اور کورونا وائرس کے برے اثرات کے باوجود معیشت میں بہتری کے لیے پرامید ہوں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک کانفرنس میں رضا باقر نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مارکیٹ اور دنیا کے لیے اچھی خبر ہوگی کیونکہ ہم پروگرام کو بحال کر رہے ہیں۔
رضاباقر نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور پاکستان کو جی ڈی پی کی کم شرح بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں ملک میں آئی ایم ایف کی مدد سے معاشی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں جس میں خاص کر ٹیم کی وصولی، معیشت کے استحکام اور مالی خسارے کو ختم کرنا ہے۔
گوکہ بیل آؤٹ پیکیج اب تک زیرالتوا ہے تاہم پاکستان کو آئی ایم ایف سے ہنگامی طور پر 14 لاکھ ڈالر موصول ہوچکے ہیں تاکہ کورونا کی وباء کے باعث ہونے والے اخراجات اور معیشت کے اثرات پر وقتی طور پر قابو پایا جائے۔
حکام نے بتایاکہ خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے پیکیج سے پاکستان کو اپنی مالی پوزیشن بہتر کرنے اور عالمی سطح پر معاشی اعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ تیریسا ڈیبن سانچیز نے کہاکہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی ٹیمیں جڑی اور مذاکرات میں لگی ہوئی ہیں، دونوں ٹیمیں سخت محنت کر رہی ہیں اور پروگرام کی بحالی کے مثبت نتائج کے لیے کام کر رہی ہیں۔
رضا باقر نے کہا کہ وہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں اقدامات کے نتائج سے بھی پرامید ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم آنے والے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، ہم کووڈ کے وسط میں بغیر کسی ویکسین کے تیار ہیں اور ایک دفعہ جب ویکسین آئے گی تو پھر یہ بہتری کا باعث ہوگی۔