کراچی :محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد کاشف اسحاق نے کہا ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی سے 16لاکھ میگاواٹ بجلی کی پیداواری گنجائش موجود ہے،ٹیرف میں کمی اور بجلی کی وافر فراہمی کیلئے شمسی توانائی سے فائدہ اٹھایا جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ٹپو گرافی اور آب و ہوا کے حالات اس کی زیادہ سے زیادہ سطح پر استعمال کے لئے مثالی ہیں، ایک اندازہ کے مطابق اس کی پیداواری صلاحیت جوکہ 1600گیگا واٹ کے قریب ہے موجودہ دور میں ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سے 40مرتبہ زیادہ ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس قابل تجدید توانائی کے منبع سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔
ملک میں ابھی تک کسی بھی انڈسٹری میں شمسی توانائی کا کوئی بڑا پلانٹ نہیں لگایا جاسکاہے جس سے نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کی جاسکے، اس جانب توجہ دینے کہ بہت ضرورت ہے کیونکہ اس کی بنا پر بجلی کی وافر فراہمی اور ٹیرف میں کمی کے مسائل سے با آسانی نمٹا جاسکتا ہے۔
شمسی توانائی کے استعمال کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اسے اے سی اور ڈی سی دونوں پر چلایا جاسکتا ہے اور اسی دجہ سے دنیا بھر میں شمسی توانائی کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد کاشف اسحاق نے مقامی ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔
ڈاکٹر کاشف اسحاق نے کہا کہ انکی کارکردگی کو عالمی سطح پر سراہا جانا نہ صرف ان کے لیئے بلکہ ان کی یونیورسٹی اور ملک کے لئے بھی قابل فخر بات ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں جاری تحقیقی سرگرمیوں کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح دنیا کے بیشتر ممالک میں تحقیقی کام کرنے والی یونیورسٹیوں کو جو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اگر وہ ہی مراعات پاکستان میں جامعات کو دی جائیں تو نہ صرف ہم عالمی سطح پر ایک بہت بڑی تعداد میں ریسرچ سائنسداں متعارف کراسکتے ہیں بلکہ اس سے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بھی بہتر بنانے میں بڑی مدد مل سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان طلبہ میں اچھی کارکردگی کے اظہار کی بے پناہ استعداد موجودہے جس کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر کاشف اسحاق نے نوجوان طلبہ پر زور دیا کہ وہ ترقی کے لئے شارٹ کٹ کے استعمال سے گریز کریں ،ہر وہ فیلڈ جس میں وہ کام کررہے ہیں پہلے اس کے بنیادی تقاضوں کو اچھی طرح سمجھیں بصورت دیگر آگے چل کر وہ نقصان اٹھانے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان ریسرچ اسکالرز کو چاہیے کہ وہ جو بھی تحقیقی کام شروع کریں اس میں کوئی پراڈکٹ سامنے لائیں جسے مارکیٹ میں فروخت کیا جاسکے اور ایک عام آدمی کو اس کے استعمال سے کوئی فائدہ مل سکے۔