اومی کرون نے خطرے کی گھنٹی بجادی، پی ایم اے کا اظہار تشویش،ملک میں دوبارہ پابندیوں کا خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan Medical Association expresses concern over Omikron

کراچی :کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کی دریافت کے حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا اجلاس ، اومی کرون کی صورتحال پر تبادلہ خیال ، طبی ماہرین نےدوبارہ پابندیوں کا خدشہ ظاہر کردیا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس پی ایم اے ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا جس میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے منظر عام آنے کے بعد ملک میں کوروناکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پی ایم اے سینٹر کی صدر ڈاکٹر سلمیٰ اسلم کنڈی نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔

اجلاس میںپی ایم اے سینٹر کے اعزازی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد، پی ایم اے سینٹر کے خزانچی ڈاکٹر قاضی واثق، ڈاکٹر سید ٹیپو سلطان، سابق صدر پی ایم اے سینٹر ڈاکٹر مرزا علی اظہر، صدر پی ایم اے سندھ ڈاکٹر عبدالغفور شورو، جنرل سیکریٹری پی ایم اے کراچی ڈاکٹر حامد منظوراور پی ایم اے کے دیگر سینئر ممبران نے شرکت کی۔

اجلاس میں جنوبی افریقہ میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کی نشاندہی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔پی ایم اے نے حکومت کو خبردار کیاکہ ہر قسم کی صورتحال کیلئے تیار رہا جائے اور نئی قسم کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کئے جائیں۔

پی ایم اے رہنماؤں نے حکومت کومشورہ دیاکہ ہوائی اڈوں، بندر گاہوں اور ملک کے دیگر داخلی راستوں پر مسافروں کی ا سکیننگ اور نگرانی کے لیے سہولیات کو بہتر بنایاجائے اور ایئر پورٹس پر ٹیسٹ دوبارہ شروع کئے جائیں، خاص طور پر ہائی رسک ممالک سے آنے والے مسافروں کی سخت نگرانی کی جائے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد میں کورونا کی علامات پائی جاتی ہیں تو اسے قرنطینہ میں رکھا جائے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کو الگ تھلگ رکھا جائے۔حکومت تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرے اور فوری طور پر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرے۔

مزید پڑھیں:کوروناکی نئی قسم اومی کرون کی علامات، پاکستان کتنا متاثر ہوسکتا ہے ؟

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہمیں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے بہت محتاط رہنا چاہیے جو ملک میں کوروناکی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے۔ پی ایم اے لوگوں سے ویکسین لگوانے کی درخواست کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے ویکسین نہیں کروائی وہ بیماری کی پیچیدگی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ جن لوگوں کو چھ ماہ پہلے ویکسین لگائی گئی تھی انہیں ویکسین کی بوسٹر خوراک لگوانی چاہیے۔

پی ایم اے بوسٹر خوراک مفت فراہم کرنے پر وفاقی حکومت اور خاص طور پر سندھ حکومت کو سراہتی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جب تک دنیا کی 80 فیصد آبادی کو ویکسین نہیں لگائی جاتی ہم مسلسل کورونا کی مختلف اقسام کا سامنا کرتے رہیں گے۔

ہم عوام سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر اپنائیں، جب بھی باہر نکلیں ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ رکھیں، مناسب وقفوں سے اپنے ہاتھ دھوئیں یا سینی ٹائز کریں، ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریز کریں۔

مزید برآں کورونا کی روک تھام کرکے ہم اپنی تجارت اور کاروبار کو جاری رکھ سکتے ہیں ورنہ حکومت دوبارہ کورونا سے متعلق پابندیاں لگانے پر مجبور ہو گی۔

Related Posts