پاکستان ریلوے نے مالی سال 2025–26 کے پہلے چھ ماہ کے دوران مال برداری کے شعبے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کر لی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صرف نومبر اور دسمبر میں مال برداری کی مد میں 3 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل ہوا، جو اس شعبے کی مضبوطی اور مسلسل طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان ریلوے رواں مالی سال کے اختتام تک مال برداری سے 38 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کر لے گا۔
وزیر ریلوے نے ادارے کے طویل المدتی مستقبل پر بھی اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان ریلوے کا ہدف ہے کہ 2026 تک ایک کھرب روپے آمدن حاصل کرنے والا ملک کا پہلا قومی ادارہ بنے، جو ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔
مستقبل کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ 2026 کے اختتام تک تمام ٹرینوں کو مرحلہ وار اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ مسافروں کی حفاظت، سہولت اور سروس کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرینوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور پاکستان ریلوے کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا عمل بھی مکمل کر لیا جائے گا۔
سیکیورٹی اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے پولیس کو جدید خطوط پر تربیت دی گئی ہے، جس کے باعث مسافروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ریلوے پولیس فورس ادارے کی 78 سالہ تاریخ کی سب سے مؤثر فورس ہے۔
انہوں نے بہتر کارکردگی کی وجوہات میں شفاف بھرتیاں، بغیر ٹکٹ سفر اور اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں اور ریلوے نیٹ ورک میں چوری کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کو قرار دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








