اسرائیل اور پاک فوج کے خفیہ گٹھ جوڑ کا پروپیگنڈا بے نقاب، جانئے اس کے پیچھے کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پاک فوج، فائل فوٹو

پاکستان نے ایک بھارتی میڈیا رپورٹ کو “مکمل طور پر من گھڑت” قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان مبینہ طور پر امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کے ساتھ خفیہ معاہدے کے تحت اپنے فوجی غزہ بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بھارتی میڈیا ادارے فرسٹ پوسٹ نے سی این این نیوز 18 کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان مبینہ طور پر 20 ہزار فوجیوں کو غزہ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور اسرائیل و امریکہ کے اعلیٰ خفیہ حکام کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کے بعد کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پاکستانی افواج حماس کے جنگجوؤں کو “غیر مؤثر” بنانے اور علاقے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے تعینات کی جائیں گی، اور اس کے بدلے پاکستان کو معاشی مراعات دی جائیں گی۔

تاہم وزارتِ اطلاعات نے ان تمام دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات، بات چیت یا معاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ وزارت نے واضح کیا کہ پاکستان نہ تو اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی سفارتی یا عسکری تعلقات رکھتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کا فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت پر مؤقف واضح، مستقل اور اصولی ہے۔

وزارت نے یہ بھی وضاحت کی کہ حکومت یا فوج کی طرف سے غزہ میں فوج بھیجنے کے کسی منصوبے کی نہ تو منظوری دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری اعلان کیا گیا ہے۔

بیان میں سی این این نیوز 18 پر الزام لگایا گیا کہ وہ “پاکستان مخالف جھوٹی خبروں اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی تاریخ رکھتا ہے” اور اس پوری رپورٹ کو “ایک گھڑی ہوئی پروپیگنڈا کہانی” قرار دیا جس کی کوئی حقیقت یا ادارہ جاتی بنیاد موجود نہیں۔

Related Posts