پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کا نیا باب، کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے بننے والا “گو اے آئی ہب” کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

گو اے آئی ہب کی افتتاحی تقریب، فوٹو اے پی پی

اسلام آباد میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا باب رقم ہوا جب سعودی عرب کے گو ٹیلی کمیونیکیشنز گروپ نے پاکستان میں مصنوعی ذہانت (AI) ہب کے قیام کا اعلان کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی جنرل سرفراز احمد، گو گروپ کے سی ای او یحییٰ بن صالح المنصور اور پی ایس ای بی کے سی ای او ابوبکر نے مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔

یہ ہب تحقیق، ڈیجیٹل حل اور فری لانسرز و ٹیک کمپنیوں کے درمیان روابط کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا ہے تاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر محیط تعلقات کو نئی سمت دی جا سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ “گو اے آئی ہب” کوئی عام منصوبہ نہیں بلکہ ایک پائیدار ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو پاکستانی پروفیشنلز اور سعودی بزنسز کو بغیر سفر کیے براہِ راست رابطے کی سہولت فراہم کرے گا۔

ان کے مطابق یہ اقدام وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن اور قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار، تربیت اور سرمایہ کاری کے نئے در وا کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی دنیا کے تین بڑے آؤٹ سورسنگ ممالک میں شامل ہے، اور اب یہ ہب پاکستانی فری لانسرز کو سعودی کمپنیوں کے لیے ریموٹ سروسز فراہم کرنے کا موقع دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ڈیٹا انفراسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری کی جائے گی جو ملک کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو تقویت دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ “یہ صرف آغاز ہے، پاکستان جلد ہی اربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری دیکھے گا۔ حکومت کی پالیسیاں اب فائلوں سے نکل کر حقیقت میں ڈھل رہی ہیں۔”

آخر میں شزہ فاطمہ خواجہ نے ایس آئی ایف سی اور وزیراعظم کی ٹیم کو سراہا جنہوں نے اس تاریخی منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

Related Posts