کراچی:مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے منفی اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے،پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے دن بھی مندی کی لپیٹ میں رہی اور کے ایس ای100انڈیکس مزید400پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس 46ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے گر گیا او ر45500پوائنٹس کی پست سطح پر بند ہوا۔
مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 65ارب روپے سے زائد ڈوب گئے جبکہ78.66فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔
ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے کی وجہ سے نہ صرف مہنگائی بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بھی اضافے کے خدشات پر سرمایہ کاروں نے نہ صرف نئی سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا بلکہ فروخت کیساتھ سرمائے کے انخلاکو بھی ترجیح دی۔
جس کی وجہ سے مارکیٹ ٹریڈنگ کے دوران سنبھل نہ سکی اور تنزلی کا شکار ہو کر مندی کی زد میں آ گئی۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو کے ایس ای100انڈیکس میں 411.61پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔
جس سے انڈیکس46008.85پوائنٹس سے کم ہو کر45597.24پوائنٹس ہو گیا اسی طرح149.92پوائنٹس کمی سے کے ایس ای30انڈیکس18178.91پوائنٹس سے کم ہو کر18028.99پوائنٹس پر بند ہوا۔
جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس31490.64پوائنٹس سے گھٹ کر31147.48پوائنٹس پرآگیا۔کاروباری مندی کی وجہ سے مارکیٹ کے سرمائے میں 65ارب13کروڑ53لاکھ86ہزار784روپے کی کمی واقع ہوئی۔
جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ79کھرب97ارب 22کروڑ26لاکھ75ہزار585روپے سے کم ہو کر79کھرب32ارب8کروڑ72لاکھ88ہزار801روپے رہ گیا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو17ارب روپے مالیت کے58کروڑ37لاکھ32ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ منگل کو12ارب روپے مالیت کے 32کروڑ58لاکھ82ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو مجموعی طور پر 525کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے99کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،413میں کمی اور13کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
کاروبا ر کے لحاظ سے ورلڈکال ٹیلی کام9کروڑ10لاکھ،ایزگارڈ نائن 3کروڑ61لاکھ،ہم نیٹ ورک 3کروڑ40لاکھ،بائیکو پیٹرولیم3کروڑ34لاکھ اور ٹیلی کارڈ لمیٹڈ2کروڑ67لاکھ حصص کے سودوں سے سرفہرست رہی۔