کراچی:امریکی سینیٹ میں طالبان اور ان کے حامی ممالک پر پابندیوں کا بل پیش ہونے کے بعد بدھ کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی اور کے ایس ای100انڈیکس 900پوائنٹس گھٹ گیا جسکی وجہ سے انڈیکس 45ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے گر گیا اور 44300پوائنٹس کی پست سطح پر مندی ہوا۔
مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کارو ں کے127ارب روپے سے زائد ڈوب گئے جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم78کھرب روپے سے گھٹ کر77کھرب روپے رہ گیا،کاروباری مندی سے78.77فیصد حصص کی قیمتیں بھی گر گئیں۔
امریکی سینیٹ میں بل پیش کیا گیا ہے کہ طالبان او ر ان کے حامی ممالک کی اقتصادی،فوجی اور مالی امداد فوری طور پر بند کی جائے،ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ اس بل کی منظوری کے نتیجے میں پاکستان کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
کیونکہ امریکا اور مغرب افغانستان میں شکست کا ملبہ پاکستا ن پر ڈالنے کی کوششیں کر رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت پر بھی منفی اثرات رونما ہو سکتے ہیں جبکہ ایسی صورتحال میں مغربی ممالک کیساتھ پاکستان کے تعلقات بھی ممکنہ طور پر متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
جس کی بناپر سرمایہ کاروں نے نہ صرف نئی سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا بلکہ سرمائے کے انخلاکو بھی ترجیح دی اور منافع کی خاطر بعض اسٹاکٹس میں فروخت سے مارکیٹ منفی زون میں بند ہوئی۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو کے ایس ای100انڈیکس میں 908.19پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے انڈیکس 45274.93پوائنٹس سے کم ہو کر44366.74پوائنٹس پر آگیا اسی طرح380.63پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای30انڈیکس 17837.24پوائنٹس سے گھٹ کر17456.61پوائنٹس پر بند ہوا۔
جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 30762.20پوائنٹس سے کم ہوکر30262.80پوائنٹس ہو گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو16ارب رپے مالیت کے46کروڑ87لاکھ61ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ منگل کو14ارب روپے مالیت کے36کروڑ48لاکھ60ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو مجموعی طور پر560کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے60کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،489میں کمی اور11کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
مزید پڑھیں: مہنگائی تمام سابقہ ریکارڈ توڑ کرعوام کو پیس رہی ہے،میاں زاہد حسین
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








