کراچی:پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں اپریل کا اختتام انتہائی مایوس کن انداز میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر بڑے پیمانے پر حصص فروخت کئے گئے۔
جس کے نتیجے میں شدید مندی چھائی رہی اورکے ایس ای100انڈیکس مزید600.76پوائنٹس کی کمی سے44262.35پوائنٹس کی سطح پر آ گیا جب کہ74.38فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈکی گئی۔
جس سے سرمایہ کاروں کو92ارب66کروڑ91لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑاتاہم حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 4.65فی صدزائد رہا۔
گزشتہ روز ٹریڈنگ کا آغاز مثبت زون میں ہوا اور ابتدائی اوقات میں محدود پیمانے پر حصص خریداری کے باعث کے ایس ای100انڈیکس45056پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
لیکن تھوڑی دیر بعد ہی تین روز سے جاری مندی کا رجحان پھر لوٹ آیا اور کرونا وائرس کے پھیلاوٗ کو روکنے کے لئے حکومتی اقدامات سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کا دباوٗ بڑھنے کے سبب مندی چھاگئی۔
دوران ٹریڈنگ کے ایس ای100انڈیکس44144پوائنٹس کی نچلی سطح پرآگیابعد میں معمولی خریداری ہونے سے 44200کی حد بحال ہوگئی لیکن مندی کا رجحان غالب رہا اور کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس600.76پوائنٹس کی کمی سے44262.35پوائنٹس سطح پربند ہوا۔
جب کہ کے ایس ای30انڈیکس 250.66پوائنٹس کی کمی سے18100.64پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس354.49پوائنٹس کی کمی سے 30017.98پوائنٹس کی سطح پرآ گیا۔
گزشتہ روز مجموعی طورپر367کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جن میں 84کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 273میں کمی اور10میں استحکام رہا۔
مندی کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت78کھرب11ارب40کروڑ62لاکھ روپے سے گھٹ کر77کھرب18ارب73کروڑ71لاکھ روپے ہوگئی۔