پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ کب آرہا ہے، حتمی تاریخ آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ 5G اسپیکٹرم کی نیلامی رمضان المبارک میں ہوگی اور حکومت کوشش کرے گی کہ یہ عمل فروری کے آخر تک مکمل کر لیا جائے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیلامی کے تین سے چار ماہ بعد 3G اور 4G سروسز میں نمایاں بہتری دیکھی جائے گی، جبکہ ملک کے بڑے شہروں میں 5G سروسز کے آغاز کا ہدف اگلے چھ ماہ میں طے کیا گیا ہے۔

شزا فاطمہ نے بتایا کہ پی ٹی سی ایل اس وقت سروس کے معیار کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کر رہا ہے۔

وزیر نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو تین ہفتے دیے گئے ہیں اور وہ اس وقت 5G کی نیلامی کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشاورت کے بعد معلوماتی میمورنڈم کو فروری کے پہلے ہفتے میں حتمی شکل دی جائے گی۔ اس کے بعد 5G مکمل طور پر نیلامی کے لیے تیار ہوگا۔

اسی روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و ٹیکنالوجی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت سید امین الحق نے کی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں تجویز کردہ تبدیلیوں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ چیئرمین نے کہا کہ ایکٹ میں کچھ اچھی اور ضروری اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

تاہم کمیٹی کے اراکین نے شکایت کی کہ انہیں بل پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ پی پی پی کی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ حکومت نے اس بل پر پارٹی سے مشاورت نہیں کی۔

اس موقع پر شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ اور سرکاری اداروں کے مسائل کی وجہ سے جلدی میں ہے۔

شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اگر پارٹی کو اعتماد میں لیا جاتا تو انہیں اس قانون سازی پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت بچانے کے لیے بہتر ہے کہ میں بل پڑھ دوں۔

وزیر نے بتایا کہ چاروں صوبوں نے راہ داری کے چارجز معاف کرنے کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔

Related Posts