پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں کرپٹو کرنسی کے لیے ایک نیا قومی نظام متعارف کرادیا ہے، اس نظام کا مقصد ملک کی مالیاتی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور عالمی ڈیجیٹل سرمایہ کاری میں اپنا حصہ مستحکم کرنا ہے۔
اس حوالے سے عالمی شہرت یافتہ مالیاتی جریدے کوائن ٹیلی گراف میگزین نے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے فروغ میں نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔
پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو بلال بن ثاقب نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اپنی خود کی بٹ کوائن ذخائر قائم کرے گا جس کے ذریعے ملک مالیاتی استحکام حاصل کرے گا اور روایتی مالیاتی نظام کے بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب ان ڈیجیٹل اثاثوں کو قومی ذخائر کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت سے عملی فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت غیرمرکوز مالیاتی نظام کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔
بلال بن ثاقب نے حال ہی میں عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کے موجد سمجھے جانے والے ممتاز ماہر مائیکل سیلر سے ملاقات کی اور انہیں پاکستان کے بٹ کوائن منصوبے کا مشیر بننے کی دعوت دی۔
رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں کرپٹو اپنانے کی رفتار کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں نویں نمبر پر رہا جو اس شعبے میں پاکستان کی تیز ترقی کی علامت ہے۔
اس دوران وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان مل کر ایک جامع اور محفوظ قومی کرپٹو نظام تیار کر رہے ہیں تاکہ اس شعبے میں شفافیت، سیکورٹی، اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدامات پاکستان کو نہ صرف ڈیجیٹل مالیاتی دنیا میں نمایاں مقام دلائیں گے بلکہ مستقبل کی عالمی معیشت میں ایک مضبوط اور مستحکم کردار ادا کرنے کے دروازے بھی کھولیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








