پاکستان سے مکہ پیدل 5400کلومیٹر کا پیدل سفر اور آخری لمحات میں حکومت کی پھرتیاں

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان سے مکہ پیدل 5400کلومیٹر کا پیدل سفر اور آخری لمحات میں حکومت کی پھرتیاں
پاکستان سے مکہ پیدل 5400کلومیٹر کا پیدل سفر اور آخری لمحات میں حکومت کی پھرتیاں

آج کل کے جدید دور میں جہاں لو گ آسانیاں ڈھونڈتے ہیں اور ہر چیزکے لیے آپ کے پاس سہولیات موجود ہیں ایسے میں اگر کوئی شخص پرانے طرز زندگی کو محسوس کرنے کے لیے انہی طریقوں پر چلے تو یقینا حیرت کی بات ہوگی۔

اوکاڑہ کے رہائشی عثمان ارشد کارنامہ انجام دیتے ہوئے اوکاڑہ سے مکہ 5400 کلو میٹر کاسفر 6 مہینے 15 دن میں تن تنہا پیدل چلتے ہوئے طے کیا۔ 4 ملکوں کے بارڈرز پارکر کے مختلف موسم برداشت کرتے ہوئے جذبہ اور حوصلہ بلندرکے ساتھ مکہ پہنچے، 4 ماہ وہاں قیام کیا حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کی۔

ایم ایم نیوز سے بات کرتے ہوئے عثمان ارشد نے اپنے سفر کے بارے میں بتایا کہ وہ پہلے بھی پاکستان میں پیدل سفر کر چکے ہیں اور انکو پرانے وقتوں کا طرز زندگی گزار کے وہ وقت اور اس وقت کے چیلنجز محسوس کر کے بہت اچھا لگا۔

انہوں نے بتایا کہ کسی بھی کام کو کرنے کے لیے آپکو ذہنی طور پر مضبوط ہونا چاہئے، آ پ کے کام آسان ہوجاتے ہیں جب آپکے ارادے مظبوط ہوتے ہیں،پیدل اتنا لمبا سفر کرنے کے لیے،فزیکلی سٹرونگ ہونا بھی ضروری ہے۔ اور لوگوں کی تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے جب آپ اپنے مقصدپر نگاہ جمائے رکھیں گے تو سب آسان ہوجائیگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سارے سفر میں کافی مشکلات بھی آئیں، موسم بھی کبھی خراب ہوا لیکن کبھی بھی میرے ذہن میں ایک بار بھی یہ خیال نہیں آیا کہ مجھے واپس جانا چاہیے یا باقی کا سفر کسی سواری پر کرنا چاہیے۔

پروگرام کے اگلے حصے میں ہم نے میاں طارق جاوید سے موجودہ حکومت کی کارکردگی پر بات کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت کی رخصتی سے پہلے انکے کاموں کی رفتار میں تیزی آتی جارہی ہے، حالانکہ ڈیڑھ سال کی حکومت میں بھی یہ سارے بلز پاس ہوسکتے تھے اور نئے پراجیکٹس بھی شروع ہوسکتے تھے لیکن ایسی کیا وجہ تھی کہ جاتے جاتے سارے کام یاد آرہے ہیں۔

پیمرا ترمیمی بل جسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، صحافی برادری کی طرف سے پہلے تو اس میں کوئی بات بھی صحافیوں کے حق میں نہیں تھی سارے مفادات حکومت کے ہی تھے پھر اس بل کو مسترد کردیا گیا اور اب کہا جارہا ہے صحافیوں کو حقوق دیے جائینگے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی چینل میں صحافیوں کی تنخواہ روکی گئی جیسا کے ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے چینلز میں ہوتا ہے تو ان چینلز کو حکومتی اشتہار نہیں دیے جائینگے۔

میاں طارق کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو کسی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے اور اپنی مدد اپ کے تحت اپنے بہتر مستقبل کی پلاننگ کرنی چاہیے۔

Related Posts