تاشقند: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام پڑوسی ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے۔
وزیراعظم عمران خان کاازبک صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان کو غربت جیسے مشترکہ چیلنجوں کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ مل کر صورتحال سے نمٹا ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ازبکستان اور پاکستان معاشی ترقی کے ایک سفر پر چل رہے ہیں۔ ہم دونوں نے مل کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہم ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ آپ نیا ازبکستان اور ہم نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔
پاکستان تنازع کے سیاسی حل کا خواہشمند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں تجارت، ثقافت اور سیاسی شعبوں میں مذاکرات ہوئے۔اُن کا کہنا تھا کہ جنگ زدہ افغان عوام ہمارے بھائی ہیں، ہم ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 22 کروڑ عوام کا بڑا ملک ہے جس کی خطے میں جغرافیائی اہمیت ہے۔ بھارت سے تعلقات بہتر ہوں گے تو ازبکستان کو بھارت تک رسائی ہوگی۔ ثقافتی تعلقات مضبوط ہوں گے تو ازبکستان میں کرکٹ متعارف کرائیں گے۔ خوشی ہوگی پاکستان کرکٹ کیلئے ازبکستان کی مدد کرے۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستانی تاجروں کا بڑا وفد میرے ساتھ آیا ہے جو ازبکستان میں کاروبار کے خواہشمند ہیں۔ ہم ازبکستان سے مضبوط تجارتی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں،دونوں ممالک کے درمیان فضائی اور زمینی روابط کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان مسئلے کے پرامن حل کے خواہاں ہیں۔ پاکستان افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا۔ افغان ہمارے بھائی ہیں بطور ہمسایہ ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ افغان امن کیلئے ازبکستان، تاجکستان، ایران اور ترکی مدد کریں گے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ازبکستان کے ساتھ چار سو تریپن ملین ڈالر کے کاروباری معاہدے ہو گئے ہیں۔ ازبک تاجر پاکستان کے ساتھ ٹریڈ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دو طرفہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: پاک ازبکستان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








