دنیا کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ چین سے لوگوں کو نہ نکالیں ، ڈاکٹر ظفر مرزا

تازہ ترین

تازہ ترین

zafar mirza
zafar mirza

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا  کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر لوگوں کو چین سے نہیں نکال رہے ، پاکستان، خطے اور دنیا کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ ہم لوگوں کو وہاں سے نہ نکالیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کورونا وائرس سے پریشان ہے اور یہ وائرس چین سمیت 15 ممالک میں پھیل چکا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ان ممالک کے افراد ماضی قریب میں چین سفر کرچکے ہیں تاہم پاکستان میں اب تک کرونا وائرس سے کوئی شخص متاثر نہیں ہوا ہے، چین میں اب تک 7831 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق اور 170 اموات ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ شہر ووہان میں کئی پاکستان طلبہ موجود ہیں جن میں 4 طلبہ میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی، ہم عجلت میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے نقصان اٹھانا پڑے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ، چین سے پاکستانی شہریوں کو نہ نکالنے کا معاملہ غیر زمہ داری نہیں بلکہ یہ ذمہ داری کا مظاہرہ ہے، اگر جلد بازی میں لوگوں کو نکالا تو وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ چین میں کرونا وائرس کا بہترین علاج ہو سکتا ہے اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کرونا سے متاثرہ چین سے شہریوں کو واپس نہ بلانے کی سفارش کی ہے،ہم اس معاملے پر چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں کی حکومت نے وائرس کی روک تھام کے لیے جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے وہ بہترین ہے اور ہمارا یہ خیال ہے کہ ایک ذمہ دار حکومت اور ہمسایہ ملک ہونے کے طور پر یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ان کے ساتھ چلیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس، کسی ملک نے چین سے اپنے لوگ نہیں نکالے۔ترجمان دفترِ خارجہ

معاون خصوصی برائے صحت کامزید کہناتھا کہ امریکا نے اب تک ویانا کنونشن کے مطابق صرف سفارتکاروں کو ہی نکالا ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم چین کی پالیسی کے ساتھ چلیں اور اس بیماری کے پھیلاؤ کا باعث نہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ چین میں پاکستانیوں کے لیے جہاز نہ بھیجنے کا مطلب غیر ذمہ داری نہيں بلکہ بہت ذمے داری کا مظاہرہ ہے، ہمیں اپنے لوگوں کی لمحہ بہ لمحہ خبر ہے، ووہان میں موجود پاکستانیوں کی بھی اتنی ہی فکر ہے جتنی ان کے اہلخانہ کو ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حکومت یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ وہ ووہان میں موجود طلبہ اور دیگر پاکستانیوں کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے جس کے لیے دفتر خارجہ اور بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانہ ان پاکستانیوں سے رابطے میں ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ہ چین میں پاکستانی متاثرہ طلبہ کی صحت بھی بہتر ہورہی ہے، جب چین سے شہری آئیں گے تو ان کی اسکیننگ کا بندوبست کیا ہوا ہے، جو چینی شہری آئیں گے وہ 14 روز نگہداشت میں رہیں گے۔

Related Posts