پاکستانی فِشنگ انڈسٹری نئی سمت میں گامزن، ٹونا مچھلی کی برآمدات سے 200 ملین ڈالر کی امید

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کی بحری معیشت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے ماہی گیری کے شعبے میں جامع اصلاحات متعارف کروا کر ٹونا مچھلی کی برآمدات کو عالمی سطح پر تجارتی کامیابی میں بدلنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان کو آئندہ برسوں میں سالانہ 200 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری کے مطابق پاکستان نے انڈین اوشین ٹونا کمیشن (IOTC) سے 25 ہزار میٹرک ٹن ٹونا کا باضابطہ کوٹہ حاصل کر لیا ہے۔ اس میں 15 ہزار ٹن ییلو فن ٹونا اور 10 ہزار ٹن اسکیپ جیک ٹونا شامل ہیں۔

یہ کوٹہ نہ صرف معاشی مواقع کی نوید ہے بلکہ ماحولیاتی توازن، پائیداری اور ذمہ دار ماہی گیری کے عالمی اصولوں پر بھی پورا اترتا ہے۔

وفاقی وزیر نے اسے “ٹونا سیکٹر کے لیے تاریخی سنگِ میل” قرار دیا۔ ان کے مطابق ٹونا مچھلی کی عالمی منڈی میں قیمت فی کلو 5 سے 7 ڈالر ہے، جو ویلیو ایڈیڈ پراسیسنگ کے ذریعے 8 ڈالر فی کلو تک جا سکتی ہے۔

پاکستان ہر سال تقریباً 45 ہزار میٹرک ٹن ٹونا پکڑتا ہے لیکن مناسب ضابطہ نہ ہونے کے باعث اس قیمتی وسیلے سے خاطر خواہ معاشی فائدہ حاصل نہیں ہو پا رہا تھا۔ اب نیشنل فشریز اینڈ ایکواکَلچر پالیسی کے ذریعے قانون سازی، ماحول دوستی اور منافع بخش ماہی گیری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ایک اور اہم پیش رفت یہ ہے کہ پہلی بار پاکستان کے سرکاری افسر کو IOTC کی اسٹینڈنگ کمیٹی آن ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی اور اثر و رسوخ میں اضافہ کرے گا۔

روایتی اور نقصان دہ ماہی گیری جیسے گل نیٹنگ اور ٹرالنگ کی جگہ اب ماحول دوست “لانگ لائننگ” متعارف کرائی جا رہی ہے، جس سے بائی کیچ یعنی ناپسندیدہ شکار میں کمی آئے گی اور سمندری حیات کا توازن برقرار رکھا جا سکے گا۔

ایف اے او (FAO) نے اس تبدیلی کی حمایت کرتے ہوئے مقامی ماہی گیروں کو 10 فری لانگ لائن فِشنگ کٹس فراہم کی ہیں، جو ماہی گیری کے طریقوں میں انقلابی تبدیلی کا آغاز ہے۔

حکومت نے سرٹیفکیشن اور ٹیسٹنگ فیس میں نظرثانی کر کے برآمدی نظام کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں متعلقہ آمدنی 48 ملین روپے سے بڑھ کر 250 ملین روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے کورنگی فشریز ہاربر کی اپ گریڈیشن جاری ہے، تاکہ ٹونا مچھلی کو یورپی یونین سمیت دیگر بین الاقوامی مارکیٹوں میں مؤثر انداز میں برآمد کیا جا سکے۔

ٹونا مچھلی اب صرف ایک غذا نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی خودکفالت، روزگار، ماحولیاتی ذمہ داری اور بین الاقوامی تجارتی ساکھ کا ایک نیا استعارہ بنتی جا رہی ہے۔ اگر موجودہ اصلاحات تسلسل سے جاری رہیں، تو آنے والے برسوں میں پاکستان کا نام عالمی فشریز انڈسٹری میں نمایاں حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

Related Posts