پاکستانی فری لانسرز نے بین الاقوامی منڈیوں میں دھوم مچادی! صرف 6 ماہ میں 500 ملین ڈالر کی آمدن

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان میں فری لانسنگ کا شعبہ تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران نمایاں زرمبادلہ کمایا گیا ہے۔ جولائی سے دسمبر 2025 تک پاکستانی فری لانسرز نے 557 ملین ڈالر سے زائد رقم ملک میں منتقل کی۔ یہ تفصیلات اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار میں سامنے آئی ہیں۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں فری لانسرز کی کمائی تقریباً 352 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی جس کے مقابلے میں رواں مالی سال آمدنی میں 58 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی آن لائن مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط بنا رہا ہے۔

آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبوں سے وابستہ نوجوان بڑی تعداد میں بین الاقوامی کلائنٹس کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائن، مواد کی تیاری اور ای کامرس جیسے شعبے خاص طور پر نمایاں ہیں۔ حکومتی سرپرستی میں ہنر مندی کے پروگراموں اور تربیتی اقدامات نے بھی اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں لگ بھگ 23 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں فری لانسنگ سے منسلک ہیں۔ عالمی فری لانس پلیٹ فارمز پر پاکستانی نوجوانوں کی کارکردگی کو بھی نمایاں قرار دیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے فری لانسرز کو غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کھولنے اور اپنی کمائی کا پچاس فیصد تک ڈالر کی صورت میں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ رجسٹرڈ فری لانسرز پر ٹیکس کی شرح بھی نہایت کم یعنی 0.25 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مالی سال کے اختتام تک فری لانسنگ سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ایک ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتا ہے جو ملکی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔

Related Posts