لندن میں آتشزدگی: پاکستانی نژاد ماں اور تین بچوں کے قتل کی تحقیقات شروع

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistani-origin family killed in London house fire
Daily Record

شمال مغربی لندن کے علاقے برینٹ میں ہفتے کی صبح ایک افسوسناک واقعے میں پاکستانی نژاد خاتون اور ان کے تین بچے گھر میں لگنے والی آگ کے باعث جاں بحق ہوگئے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق واقعہ قتل کی سازش کے تحت جانچ کے لیے درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس اور امدادی اداروں کو صبح 1 بج کر 20 منٹ پر ٹیلٹ کلوز اسٹون برج پر واقع ایک گھر میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔

ہلاک ہونے والوں میں 43 سالہ خاتون، ان کی 15 سالہ بیٹی، 8 سالہ بیٹا اور 4 سالہ بیٹا شامل ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والی خاتون ان تینوں بچوں کی ماں تھیں۔

اس آگ سے دو ملحقہ تین منزلہ ٹیرس طرز کے مکانات بری طرح متاثر ہوئے۔ لندن فائر بریگیڈ کے مطابق 70 فائر فائٹرز اور 8 فائر انجن نے آگ پر قابو پانے کے لیے حصہ لیا۔ یہ فائر فائٹرز ویملی، پارک رائل اور ولسڈن سمیت قریبی اسٹیشنز سے روانہ کیے گئے تھے۔

واقعے کے دوران 70 سالہ ایک خاتون اور ایک نوعمر لڑکی کو زندہ بچا کر اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کی حالت کے بارے میں فی الحال تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

پولیس نے موقع پر موجود 41 سالہ ایک شخص کو قتل کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے جو اس وقت حراست میں ہے۔ حکام نے اس شخص کی شناخت یا متاثرہ خاندان سے تعلق کے بارے میں ابھی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

مقامی رکن پارلیمنٹ ڈان بٹلر نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندان کے لیے ہمدردی اور دعاؤں کا پیغام دیا۔ پڑوسیوں نے متاثرہ خاندان کو “انتہائی نیک اور اچھے لوگ” قرار دیا، جنہوں نے دو دہائیاں قبل پاکستان سے برطانیہ ہجرت کی تھی۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ رات کے وقت شیشے ٹوٹنے اور چیخ و پکار کی آوازوں سے جاگے، جس کے فوراً بعد انہوں نے آگ کے شعلے دیکھے۔

لندن فائر بریگیڈ کے مطابق ایک خاتون اور بچہ دوسری منزل سے سانس لینے والے آلات پہنے فائر فائٹرز نے نکالا، جنہیں موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قیاس آرائی سے گریز کریں کیونکہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

Related Posts