اپٹما کو ملک کی ٹیکسٹائل برآمدات میں1 سال میں 20فیصد سے زائد اضافے کی توقع

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی: اپٹما (پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن) کے سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں آئندہ مالی سال تک 20 فیصد سے زائد اضافے کی توقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق اپٹما کے پیٹرن انچیف ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل کے شعبے نے 4 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کیں جبکہ 30 جون 2022 تک شرحِ نمو 25 فیصد رہی۔

یہ بھی پڑھیں:

ملک بھر میں گاڑیوں کی فروخت میں 55 فیصد کا اضافہ

اپٹما کا کہنا ہے کہ سالانہ شرحِ نمو میں متوقع 20 فیصد اضافہ صرف علاقائی طور پر مسابقتی ٹیرف پر توانائی کی فراہمی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ فی الحال ٹیکسٹائل ہی واحد صنعتی شعبہ ہے جو ترقی کر رہا ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل وہ واحد شعبہ ہے جو نہ صرف مسلسل ترقی پذیر ہے بلکہ ملک میں زرِ مبادلہ بھی لارہا ہے۔ جون 2021 میں 15.4 کے مقابلے میں جون 2022 میں 20 ارب ڈالرکی برآمدات ہوئیں۔

ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ رواں برس امریکا اور برازیل سے روئی کی 60 لاکھ گانٹھیں درآمد کی جائیں گی۔ پہلے نو ماہ کے دوران 170 کلو گرام کی صرف 31 لاکھ گانٹھیں درآمد کی گئی تھیں۔

اپریل اور مئی 2021 کے دوران 11لاکھ سے زائد گانٹھیں درآمد کی گئیں۔ اپریل کے دوران اپٹما کا کہنا تھا کہ کپاس کا مجموعی رقبہ رواں دہائی میں 29لاکھ ہیکٹر سے 33فیصد کم ہو کر 19 لاکھ ہیکٹر رہ گیا ہے۔ 15لاکھ کسان کپاس کاشت کرتے ہیں جبکہ 75فیصد کاشت پنجاب میں ہوتی ہے۔

باقی ماندہ 25فیصد کپاس سندھ میں کاشت ہوتی ہے جبکہ پنجاب میں کپاس کیلئے وقف اراضی کا رقبہ 25لاکھ 30 ہزار ہیکٹر سے 50 فیصد کم ہو کر 12لاکھ 80ہزار ہیکٹر رہ گیا ہے جبکہ پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

پاکستان میں کپاس کی پیداوار گزشتہ 10 برس میں 880 کلو گرام فی ہیکٹر سے 26 فیصد کم ہو کر 652کلو گرام فی ہیکٹر تک آگئی۔ پنجاب میں 2012 میں پیداوار 814کلوگرام تھی جو 36فیصد کم ہو کر رواں برس 520کلوگرام پر آگئی۔ 

Related Posts