برطانیہ میں پاکستانی خواتین کو نوکریاں ڈھونڈنے میں شدید مشکلات، وجہ کیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

برطانیہ میں مقیم پاکستانی خواتین کو نوکریاں ڈھونڈنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

گریٹر لندن اتھارٹی کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ لندن میں پاکستانی خواتین اعلیٰ تعلیم کے باوجود اچھی تنخواہوں والی ملازمتیں حاصل کرنے میں سب سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں لندن میں مقیم پاکستانی اور بنگلا دیشی خواتین میں سے تقریباً نصف معاشی طور پر غیر فعال تھیں۔

رپورٹ کے مطابق خواتین کی بے روزگاری کی شرح 16.9 فیصد تھی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کمیونٹی سپورٹ گروپس، پروفیشنل نیٹ ورکنگ پروگرامز اور حکومتی سطح پر پالیسی اصلاحات کے ذریعے بہتری لائی جا سکتی ہے۔

خواتین کے لیے مخصوص اسکل ٹریننگ، انٹرن شپس، اور ماؤں کے لیے لچکدار اوقاتِ کار والی ملازمتیں فراہم کرنا اس مسئلے کا عملی حل ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ مساجد، کمیونٹی سینٹرز اور دیگر سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ خواتین کے روزگار سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں فعال کردار ادا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین خود مختار بن سکیں اور معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

Related Posts