آن لائن کمیٹی میں شامل پاکستانی خواتین کے 42 کروڑ روپے ڈوب گئے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی خواتین مختلف فیس بک گروپس کے ذریعے لاکھوں مالیت کی رقم سے محروم ہوئیں، یہ گروپ کاروباری شخصیت کے طور پر خود کو متعارف کرانے والی ’سدرہ حمید‘ نامی خاتون چلاتی تھیں، جنہوں نے ان گروپس کے ذریعے مبینہ طور پر 42 کروڑ روپے کی کمیٹیاں ہڑپ کرلی ہیں۔
اس وقت سوشل میڈیا خاص کر فیس بک پران پاکستانیخواتین کا واویلا جاری ہے جو اس دھوکے کا شکارہوئیں، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سارے گھناونے کھیل کا اس وقت پردہ چاک ہوا جب ان خواتین نے اپنی رقم واپس لینے کےلیے کسی بڑی شخصیت سے رابطہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:
ایک تہائی برطانوی شہریوں نے ایک سے زائد بیویوں اور پارٹنرز کی حمایت کردی
سدرہ حمید نامی جس خاتون پر آن لائن کمیٹیوں کے ذریعے پاکستانی خواتین کے 42 کروڑ روپے ہڑپ کرنے کے الزامات ہیں، وہ بڑی ڈھٹائی سے اس دھوکہ دہی کو ایک حادثے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میرا نام سدرہ حمید ہے اور میں معذرت کے ساتھ دنیا کو اپنی کمیٹیوں کے حوالے سے اپنے موجودہ موقف کے بارے میں آگاہ کر رہی ہوں۔
ویڈیو بیان میں سدرہ حمید کا کہنا ہے کہ میں نے واقعی اپنی کمیٹیوں میں گڑبڑ کر دی ہے اور اب میں عملی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہوں اور میرے پاس کمیٹی جمع کروانے والوں کی کمیٹیوں کو ادا کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
3 online businesses, strong social media backing, 117 committees & a scam of 42 crore or even more. Anna Delvey of Pakistan is here.
Sidra Humaid declared herself BANKRUPT & mostly women have lost MILLIONS of their hard earned money in the name of ‘savings’.— Hina Safdar (@hinasafi) December 3, 2022
سدرہ حمید کے مطابق میں نے چھوٹی کمیٹیوں سے شروعات کی اور اس نے میرے لیے اچھا کام کیا لیکن جیسے جیسے یہ بڑھتا گیا اور میں اپنے دوستوں اور عزیزوں کی مشکلات میں مدد کرنے کے لیے مزید کمیٹیاں کھولتی گئی، میں نے اپنے آپ کو ہر ماہ زیادہ سے زیادہ رقم ادا کرنے کی پریشانی میں پایا۔ ماہانہ ادائیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مجھے مزید کمیٹیاں شروع کرنی پڑیں اور اس کے نتیجے میں آخرکار ایک ایسا رولنگ لوپ نکلا جس کا کوئی اختتام نہیں تھا۔ اب مجھے اتنی رقم ادا کرنی ہے، جس کا میں حساب بھی نہیں کر سکتی۔
“So I was going somewhere with my father yesterday and saw a female foodpanda rider. We all were stopped on a signal and she was minding her own business and then a car with three boys in it stopped right next to her and started hooting n all.
— Meph⚓ (@UnitedsFreak) August 17, 2019
سدرہ حمید نے وضاحت کی کہ اس نے خواتین کے واجب الادا رقم کی گنتی گنوائی ہے لیکن یقین دہانی کرائی کہ وہ غائب نہیں ہوں گی اور وہ اور اس کا خاندان ہر ایک فرد کو واپس کرے گا۔ اس نے اپنے صارفین سے بھی درخواست کی کہ وہ پہلے پیسے ڈوب جانے کے باوجود مزید کمیٹیاں جمع کرواتے رہیں تاکہ جن کو کمیٹیاں دینی ہیں ان کو آسانی سے ادائیگی کی جاسکے۔
سدرہ حمید مبینہ طور پر ایک کاروباری شخصیت ہیں جن کے دو کاروبار ہیں، ایک کھانے کا اور دوسرا کروشیٹڈ گفٹ آئٹمز بنانے کا۔
Sidra Humaid sounds like a name that you use when you have to set up your 100th Gmail account and you’ve run out of names.
— Khadiجah (@superkhadijaman) December 3, 2022
ایک متاثرہ خاتون نے انکشاف کیا کہ زیر بحث خاتون مختلف فیس بک گروپس میں کئی خواتین کا اعتماد جیتنے کے بعد کمیٹیوں میں شامل ہو گئی تھی۔ سدرہ حمید نے بغیر کسی دستاویز یا تصدیق کے متعدد کمیٹیوں کو آن لائن منظم کیا اور ایک فراڈی ثابت ہوئی اور وہ پاکستانی خواتین کیے 42 کروڑ روپے لے اڑی اور اب نئی نئی کہانیاں سنا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








