دبئی میں کھیلے گئے انڈر 19 ایشیا کپ فائنل میں پاکستان نے بھارت کو 191 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ پاکستان نے سمیر منہاس کی شاندار 172 رنز کی اننگز کی بدولت 347/8 کا مضبوط سکور بنایا جبکہ بھارت کی ٹیم صرف 156 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔ یہ پاکستان کی انڈر 19 سطح پر بھارت کے خلاف ایک یادگار فتح تھی، جس پر پاکستانی فینز نے سوشل میڈیا پر جشن منایا تاہم جشن کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح بھی خوب چلا۔
بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر شکست تسلیم کرتے ہوئے پوسٹ کی۔ “A defeat for India U19 in the #Final by 191 runs.”
اس بیان میں شکست تو تسلیم کی گئی مگر یہ واضح طور پر نہیں کہا گیا کہ شکست پاکستان سے ہوئی ہے۔ پاکستان کا نام نہ لینے پر پاکستانی صارفین نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو شدید ٹرول کیا اور جون ایلیا کا مشہور شعر وائرل کر دیا
شرم ، دہشت ، جھجک ، پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ، وہ، جی، مگر یہ سب کیا ہے
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں
پاکستانی صارفین کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو شرم اور جھجک کی وجہ سے پاکستان کا نام لینے میں ہچکچاہٹ ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں پوسٹس میں یہ شعر بی سی سی آئی کی ٹویٹ کے ساتھ جوڑ کر شیئر کیا گیا۔
*A defeat for India U19 in the #fial by 191 runs by Pakistan.
آپ وہ، جی، مگر یہ سب کیا ہے
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں https://t.co/s5sfRAARtj— انٙوکھی (@002_Misfit) December 22, 2025
یہ ٹرولنگ پاک بھارت میچز کے بعد کی روایت کا حصہ ہے جہاں فتح مند فینز شاعری کا سہارا لے کر مخالف کو طنز کرتے ہیں۔ اس بار بی سی سی آئی کے بیان نے جون ایلیا کو خاص طور پر ٹرینڈ کروا دیا اور #U19AsiaCup، #PakistanZindabad جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ یہ شعر ہر طرف چھا گیا۔ پاکستانی فینز کے لیے یہ دوہری خوشی کا موقع بن گیا۔
کون ہیں جون؟
جون ایلیا (1931–2002) پاکستان کے معروف شاعر، فلسفی اور فلسفیانہ نثر کے ماہر تھے۔ ان کی شاعری میں فلسفہ، عشق، انسانی جذبات اور معاشرتی حقائق کا عکس ملتا ہے۔ وہ اپنے منفرد انداز اور درد بھرے اشعار کے لیے جانے جاتے ہیں جن میں طنز و مزاح بھی شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فینز نے بی سی سی آئی کی ٹویٹ کے تناظر میں ان کے شعر کا سہارا لیا اور طنز کے ساتھ جشن منایا۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
جون ایلیا کا اصل نام سید سبطِ اصغر نقوی تھا۔ وہ 14 دسمبر 1931 کو اردو ادب کے معروف شہر امروہہ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد شفیق حسن ایلیا زبانوں، علمِ فلکیات اور فلسفے پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جون ایلیا کی ابتدائی تربیت علمی، فکری اور تنقیدی ماحول میں ہوئی۔
وفات اور ادبی وراثت
جون ایلیا 8 نومبر 2002 کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ان کی وفات کو اب 23 برس گزر چکے ہیں مگر ان کا کلام آج پہلے سے زیادہ زندہ ہے۔ گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے اردو شاعروں میں ان کا نام سرفہرست ہے۔ نوجوان نسل انہیں بغاوت، سچائی اور فکری آزادی کی علامت سمجھتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








