اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے مطابق اکتوبر 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے وطن بھجوائی جانے والی رقوم (ترسیلاتِ زر) کی مجموعی مالیت 3.4 ارب ڈالر ریکارڈ کی۔
جمعہ کے روز جاری ہونے والے اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم گزشتہ سال کے اسی مہینے (اکتوبر 2024) میں موصول ہونے والے 3.1 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہے۔ ماہ بہ ماہ بنیاد پر بھی ترسیلات میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ستمبر میں 3.2 ارب ڈالر تھیں۔
مالی سال 2025 کے پہلے چار مہینوں (جولائی تا اکتوبر) کے دوران کل ترسیلاتِ زر 12.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 11.9 ارب ڈالر تھی، یعنی 9.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ترسیلاتِ زر پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے اور ان گھروں کی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو ان رقوم پر انحصار کرتے ہیں۔
بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب سے آیا، جہاں سے پاکستانی کارکنوں نے 821 ملین ڈالر بھیجے یہ رقم ماہانہ بنیاد پر 9 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 7 فیصد زیادہ ہے، جو گزشتہ سال اکتوبر میں 767 ملین ڈالر تھی۔
متحدہ عرب امارات (UAE) سے ترسیلاتِ زر میں بھی 12 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے 621 ملین ڈالر سے بڑھ کر اکتوبر 2025 میں 698 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
برطانیہ سے موصول ہونے والی ترسیلات 488 ملین ڈالر رہیں، جو ستمبر 2025 کے 455 ملین ڈالر کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ سالانہ بنیاد پر ان میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔
امریکہ سے پاکستانیوں نے 290 ملین ڈالر بھیجے، جو سالانہ لحاظ سے 4 فیصد کمی ہے، تاہم ماہانہ بنیاد پر اس میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔
یورپی یونین (EU) ممالک سے ترسیلاتِ زر 457 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








