پاکستانی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کھلاڑی جیتنے نہیں بلکہ مداحوں کا ضبط آزمانے میدان میں اترے تھے۔
بھارت کے خلاف شکست کے بعد سیمی فائنل کا خواب اب کرکٹ کے بجائے فلکیات، روحانیات اور موسم کی مہربانیوں پر منحصر ہو چکا ہے۔
اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ اگر 24 فروری کو راولپنڈی میں بنگلہ دیش کرکٹ کھیلنے کے بجائے کوئی کرامت دکھا دے اور نیوزی لینڈ کو زیر کر لے، تو پاکستان کی امیدوں کی ناؤ جو ابھی تک سمندر میں بھنور کھا رہی ہے، شاید کنارے کی جھلک دیکھ سکے۔
اس کے بعد 27 فروری کو پاکستان کو نہ صرف بنگلہ دیش کو ہرانا ہوگا بلکہ اتنے رنز بنانے ہوں گے کہ نیٹ رن ریٹ آسمان کو چھو لے۔
آخر میں، 2 مارچ کو بھارت کو نیوزی لینڈ کو ہرانا ہوگا تاکہ پاکستان کے سیمی فائنل میں جانے کی دعائیں سنی جا سکیں۔
یعنی پاکستانی شائقین اب صرف کرکٹ پر نہیں بلکہ بنگلہ دیشی ٹیم کی غیر متوقع کارکردگی، بھارتی ٹیم کی نیکی، اور قدرتی آفات (جیسے بارش) پر بھی نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
کرکٹ کے میدان میں کچھ بھی ممکن ہے لیکن اس وقت پاکستان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کا فارمولا ریاضی سے زیادہ قسمت اور معجزے پر مبنی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








