اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی جاری کردہ لیبر فورس سروے 2024-2025 کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد قومی بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 7اعشاریہ 1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
سروے کے مطابق بیروزگار افراد کی مجموعی تعداد 8 ملین سے تجاوز کر گئی ہے، جو موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں نہایت تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی 240 ملین تک پہنچ چکی ہے جبکہ لیبر فورس کا حجم 77اعشاریہ 2 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ ملک کی ورکنگ ایج آبادی 43 فیصد ہے، جبکہ 53اعشاریہ 8 فیصد افراد بیروزگار یا غیر فعال شمار ہوتے ہیں۔
سروے کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا 3اعشاریہ 3 فیصد حصہ بیروزگار ہے جبکہ خدمات کا شعبہ (سروس سیکٹر) روزگار فراہم کرنے کے لحاظ سے سب سے آگے ہے، جہاں 31اعشاریہ 8 ملین افراد ملازمت کر رہے ہیں۔
زرعی شعبہ 33اعشاریہ 1 فیصد جبکہ صنعتی شعبہ 25اعشاریہ 7 فیصد افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔ دلچسپ طور پر زرعی شعبے نے 25اعشاریہ 5 ملین جبکہ صنعتی شعبے نے 19اعشاریہ 8 ملین افراد کو روزگار مہیا کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں اوسط ماہانہ آمدن 39042 روپے ہے تاہم گزشتہ پانچ سال میں آمدنی میں صرف 15014 روپے کا اضافہ ہوا جبکہ سال 2020-2021 میں اوسط آمدنی 24028 روپے تھی۔
مردوں کی موجودہ اوسط ماہانہ آمدن 39302 روپے جبکہ خواتین کی 37347 روپے ریکارڈ کی گئی ہے جو صنفی فرق کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل بڑھتی بیروزگاری، کمزور آمدنی اور صنعتوں میں سست روی اقتصادی چیلنجوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








