پرتگال نے فلسطین کو باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان سے قبل پرتگالی وزیراعظم لوئس مونٹی نیگرو نے صدر اور پارلیمنٹ سے مشاورت کی جس کے بعد یہ فیصلہ حتمی شکل اختیار کر گیا۔
پرتگال کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان اتوار 21 ستمبر کو کیا جائے گا۔ یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کے حوالے سے ہونے والی اعلیٰ سطحی کانفرنس سے ایک دن قبل کیا جائے گا۔
پرتگال میں فلسطین کی حمایت کا معاملہ گزشتہ 15 برس سے پارلیمنٹ میں زیر بحث رہا، جب 2011 میں بائیں بازو کی جماعت نے پہلی مرتبہ اس حوالے سے تجویز پیش کی تھی۔
اسرائیل کے اقدامات پر عالمی ردعمل
پرتگال کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی ایک تحقیقی رپورٹ میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے کو ممکنہ نسل کشی قرار دیا گیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک 65 ہزارسے زائد فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ 65 ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
پرتگال نے رواں سال جولائی میں ہی اس نیت کا اظہار کر دیا تھا کہ وہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرے گا جس کی وجہ اس نے بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینی زمین پر مسلسل قبضے کی دھمکیوں کو قرار دیا تھا۔
مزید یورپی ممالک کا بھی اقدام کا عندیہ
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے مشیر کے مطابق، فرانس کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، بیلجیئم، لکسمبرگ، مالٹا، انڈورا اور سان مارینو بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ تمام ممالک سعودی عرب اور فرانس کی زیر صدارت اقوام متحدہ میں ہونے والی اعلیٰ سطحی کانفرنس میں اپنے فیصلوں کا اعلان کریں گے۔
اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق رواں سال اپریل تک دنیا کے 147 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے تھے جو اقوام متحدہ کے کل رکن ممالک کا تقریباً 75 فیصد بنتے ہیں۔
اسرائیل اور امریکہ نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے ان فیصلوں پر شدید تنقید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فرانس کے اقدام کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف حماس کے پروپیگنڈے کو تقویت دے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








