اسرائیلی وزیر کے مسجدِ اقصیٰ میں گھسنے پر فلسطینی سفیر برہم، اقوامِ متحدہ اجلاس میں تنقید

تازہ ترین

تازہ ترین

نیو یارک: اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزیر کے مسجدِ اقصیٰ میں گھسنے کے معاملے پر فلسطینی سفیر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں سلامتی کونسل اجلاس کے دوران اسرائیل اور فلسطین کے سفیروں کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفیر گیلاد اردان کے نزدیک اجلاس افسوسناک اور مضحکہ خیز رہا۔

یہ بھی پڑھیں:

مسٹر ہیری! آپ نے جنکو مارا وہ مہرے نہیں، انسان تھے، طالبان

سلامتی کونسل اجلاس کے دوران فلسطینی سفیر نے اسرائیلی وزیر کے مسجدِ اقصیٰ میں گھسنے کو توہین آمیز اقدام قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ نے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیر کے متنازعہ دورے پر تبادلۂ خیال کی اجازت متحدہ عرب امارات اور چین کی درخواست پر دی۔

اسرائیلی وزیر کے مسجدِ اقصیٰ میں گھسنے پر مظلوم فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اسرائیلی سفیر گیلاد اردان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے انعقاد کی کوئی وجہ نہیں تھی، کچھ ہوا نہیں اور سلامتی کونسل نے اجلاس بلا لیا جو مضحکہ خیز ہے۔ اسرائیلی وزیر کے دورے کو دنیا بھر میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اسلام میں تیسرے مقدس ترین مقام مسجدِ اقصیٰ اسرائیل کے زیرِ قبضہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جو یہودیوں کیلئے بھی مقدس ترین جگہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی قوم پرستوں نے متعدد بار خلافِ ضابطہ عبادت کی جس پر عالمِ اسلام نے ہمیشہ آواز بلند کی۔

 

Related Posts