والدین نے موبائل گیم کھیلنے کا منع کیا اور پھر! تین سگی بہنوں نے اجتماعی خودکشی کرلی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

اتر پردیش کے غازی آباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں تین سگی بہنوں نے نویں منزل کی بالکنی سے چھلانگ لگا کر اجتماعی خودکشی کر لی۔پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً 2 بجے پیش آیا جب تینوں بچیوں نے اپنے کمرے کو اندر سے بند کیا اسٹول رکھ کر باری باری بالکنی سے چھلانگ لگائی۔ بچیوں کی عمریں 12، 14 اور 16 سال تھیں۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تینوں بہنیں ایک کورین ٹاسک بیسڈ انٹرایکٹو لو گیم کی لت میں مبتلا تھیں۔ وہ ہر وقت ایک ساتھ رہتی، ایک ساتھ نہاتیں اور ٹوائلٹ بھی ساتھ جاتیں۔ گیم کی یہ عادت اتنی شدید تھی کہ انہوں نے اسکول جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔

واقعے کے وقت والد چیتن کمار جو آن لائن شیئر ٹریڈنگ کے کام سے وابستہ ہیں دونوں بیویوں کے ساتھ ایک کمرے میں سو رہے تھے جبکہ تینوں بچیاں دوسرے کمرے میں سو رہی تھیں۔

والد نے صحافیوں کو بتایا کہ بچیاں گزشتہ تین برس سے یہ گیم کھیل رہی تھیں اور اکثر کہتی تھیں کہ انہیں کوریا جانا ہے۔ والد کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ پاپا ہم کوریا کو نہیں چھوڑسکتے۔ کوریا ہماری زندگی ہے۔ کوریا ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ آپ ہمیں اس سے الگ نہیں کرسکتے۔ ہم اپنی جانیں دے دیں گی۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کون سے گیمز کھیل رہی تھیں یا کون سے ٹاسکس کر رہی تھیں۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔

پولیس نے بتایا کہ والدین نے بچوں کی موبائل سرگرمیوں پر اعتراض کیا اور ان سے گیم چھوڑنے کو کہا تھا جس پر بچیاں ناراض ہو گئی تھیں۔ واقعے کے مقام سے پولیس کو ایک ڈائری بھی ملی جس میں نوٹ لکھا تھا کہ ممی پاپا، سوری ہم گیم نہیں چھوڑ پا رہی ہیں۔ اب آپ کو احساس ہوگا کہ ہم گیم سے کتنا پیار کرتی تھیں جسے آپ چھڑوانا چاہتے تھے۔

ایس پی اتُل کمار سنگھ نے بتایا کہ پولیس کو رات 2:18 بجے اطلاع ملی۔ جس مقام سے بچیوں نے چھلانگ لگائی وہاں زمین سے بلندی تقریباً 80 فٹ تھی۔ تینوں بچیاں شدید زخمی ہوئی اور ایمبولینس کے ذریعے لونی کے سرکاری اسپتال منتقل کی گئیں جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔

ڈی سی پی نمیش پاٹل نے بتایا کہ بچیاں کورین مواد سے متاثر تھیں اور کووڈ-19 وبا کے بعد موبائل پر طویل وقت گزارتی تھیں۔ پچھلے چند دنوں سے موبائل فون کا استعمال محدود کیا گیا تھا جس سے وہ پریشان ہو سکتی تھیں۔ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

پولیس نے والدین اور عوام سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور موبائل گیمز کے ممکنہ خطرات سے خبردار رہیں۔

Related Posts