قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فروری کے آخری روز تاریخ رقم ہوگئی۔ 19 سال سے خانہ جنگی کے شکار افغانستان میں اچانک بہار آ گئی۔سالہا سال کی خانہ جنگی کے اختتام کا اعلان ہوا جس سے مظلوم افغان عوام کے چہرے کھل اٹھے۔

طالبان اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ اور امریکی فوج کا انخلاء صرف افغانستان اور امریکا کے لیے ہی نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔
امن معاہدہ افغانستان سے فرار کا راستہ
ایک وقت تھا جب افغانستان اور پاکستان کے ساتھ امریکا کا اتحاد تھا۔ امریکا کی جنگ روس کے ساتھ تھی۔ اس موقعے پر امریکا نے پاکستان کو ہتھیار بھی دئیے اور افغان طالبان کے ساتھ مل کر جہاد کا عندیہ بھی دیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ افغان طالبان اور جنگجو گروہوں نے امریکا کے دئیے ہوئے اسٹنگر میزائل روسی سپاہ پر اس طرح داغے کہ انہیں افغانستان سے نکلتے ہی بنی۔ یہ سب کیا تھا، کیوں اور کیسے ہوا؟ یہ ایک طویل بحث ہے۔
فی الحال صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ روس اس دور میں سوویت یونین تھا جس کے ٹکڑے ہو گئے اور بعد میں وہ دن بھی آیا کہ امریکا نے نائن الیون کا بہانہ بنا کر اپنے سابقہ حلیف افغانستان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے۔
امریکا کے افغانستان میں گھسنے کے بعد افغان طالبان کے ایک سرکردہ رہنما نے ایک تاریخی جملہ کہا۔ اس نے کہا افغانستان گوند کا تالاب ہے۔ یہاں امریکا آیا اپنی مرضی سے ہے لیکن جائے گا اس وقت، جب ہم چاہیں گے۔
وقت نے ثابت کیا کہ افغان طالبان کی بات درست تھی۔ امریکا بہادر انیس سال کی مسلسل جنگ اور کھربوں ڈالرز کے نقصان کے بعد دامن سمیٹ کر رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کی روشنی میں فرار ہورہا ہے۔

فرار کو قانونی شکل دینے کے لیے افغان طالبان کے ساتھ مل بیٹھ کر قطری دارالحکومت دوحہ میں ایک معاہدہ کیا گیا جس کے تحت آئندہ 14 ماہ میں امریکی فوج کا افغانستان سے مکمل طور پر صفایا ہوجائے گا۔
معاہدے کے مقاصد
یہ بات سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ امن معاہدے پر دستخط کرنے سے فریقین کے مقاصد کیا ہیں؟ افغان طالبان ملک کے کثیر حصے پر قابض ہوچکے ہیں اور اب ایک پر امن حکومت لانا چاہتے ہیں جس پر اسلامی نظام نافذ کیا جائے گا۔
دوسری جانب افغان حکومت کے نام پر کٹھ پتلی وزراء کا ٹولہ اقتدار پر قابض ہے جس کا امریکا کی آشیر باد کے بغیر افغانستان میں جان بچانا بھی انتہائی مشکل ہے اور امریکا بوریا بستر سمیٹ کر افغانستان سے رفوچکر ہو رہا ہے۔

افغان عوام کے لیے افغان حکومت نامی کسی اقتدار کو تسلیم کرنے سے زیادہ افغان طالبان کی اسلامی حکومت اہم ہے۔ اگر ہم افغان روایات اور ثقافت کا جائزہ لیں تو ان پر بھی اسلام کی چھاپ واضح نظر آتی ہے۔
امریکا خطے سے مکمل طورپر صاف نہیں ہوگا۔ عرب ممالک سمیت متعدد ملکوں میں امریکا کے فوجی اڈے موجود ہیں جہاں سے وہ افغانستان سمیت کسی بھی ملک کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم افغانستان کے اندر رسائی کی بات الگ تھی۔

ملک کے اندر رسائی کے بعد امریکا اور بھارت مل کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہوسکتے تھے جن کا اب انہیں کوئی موقع نہیں ملے گا۔ افغان طالبان امن معاہدے میں بیٹھے ہی پاکستان کے کہنے پر تھے۔
لہٰذا امریکا کا اس امن معاہدے کا مقصد اپنے فوجیوں کی جاں بخشی کروانا تھا۔ افغان طالبان کی مسلسل کارروائیوں میں گزشتہ 19 برس میں امریکا کا کھربوں ڈالرز نقصان ہوا اور فوجیوں کی ہلاکتوں کے تو اعدادوشمار ہی دستیاب نہیں۔
معاہدے کی تقریب
دوحہ کے مقامی ہوٹل میں افغان عمل کا معاہدہ طے پایا۔ افغان طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکا کی طرف سے نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد نے دستخط کیے ۔ پاکستان کی طرف سے وزیر خارجہ شریک ہوئے۔
![]()
پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر 50 ممالک کے نمائندے بھی اس تقریب کا حصہ بنے جسے ایک حیران کن حقیقت قرار دیا جاسکتا ہے۔ کل تک جن طالبان کو آپ دہشت گرد کہتے تھے، آج انہیں سے ہاتھ ملانا پڑ گیا۔
معاہدے کی شرائط
معاہدے کے مطابق امریکا 5000 افغان طالبان کو رہا کرے گا جبکہ دوسری جانب طالبان افغان سپاہیوں اور فوجیوں کے ساتھ ساتھ 1000 سرکاری اہلکاروں کو رہا کرنے کے پابند ہوں گے۔
شرائط کے مطابق امریکا 14 ماہ کے اندر اندر اپنی افواج افغانستان سے نکال لے گا جس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق افغان سرزمین امریکا اور اتحادیوں پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی۔

اعلامیے کے مطابق ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے بین الافغان مذاکرات ہوں گے۔ افغانستان میں مستقل جنگ بندی ہوگی۔ بین الافغان مذاکرات 10 مارچ سے شروع ہوں گے۔
ابتدائی طور پر معاہدے کے 135 دن کے اندر اندر امریکا فوجیوں کی تعداد 8600 تک لائے گا جو بتدریج ختم ہوجائیں گی۔ امریکا افغانستان کی سالمیت کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرسکے گا۔
افغان طالبان کا ردِ عمل
معاہدے پر ردِ عمل دیتے ہوئے افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے پاکستان اور چین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے معاہدے کو عظیم کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں عدم مداخلت ہماری کامیابی ہے۔

طالبان کے سربراہ نے کہا کہ افغان قوم بیرونی جارحیت سے نجات پائے گی۔ شریعت کے اصولوں اور عالمی معیار کے عین مطابق اس معاہدے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ اسلام میں دھوکہ دہی اور غداری کی کوئی جگہ نہیں۔
افغانستان میں خانہ جنگی کا خاتمہ پاکستان میں امن کا ضامن
دیکھا جائے تو پاکستان کا قریبی اور ہمسایہ ملک افغانستان پاکستان کے لیے متعدد مرتبہ مشکلات کھڑی کرچکا ہے۔ اس کی وجہ امریکا اور بھارت کا اثر رسوخ ہے اور ایک مستحکم افغان حکومت کا قیام پاکستان میں امن کے لیے ضروری ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








