اسلام آباد کے عوام کا کہنا ہے کہ شہر میں ناجائز تجاوزات اور قبضوں کی بھرمار ہے جس سے وفاقی دارالحکومت کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک سروے کے دوران سیّد باقر علی، امجد شبیر، محمد عثمان، سعد علی، محمود ارشاد، شیر حسین، ذوالفقار علی، محمد یوسف، زکریا، خالد خان سمیت اسلام آباد کے دیگر شہریوں کا کہنا تھا کہ آئی الیون سمیت اسلام آباد کے تمام سیکٹرز اور بڑی شاہراہوں کے چوک اور مراکز کی راہداریوں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ مافیا نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
سروے کے دوران شہریوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے حکام اور چند بدعنوان اہلکاروں نے مبینہ طور پرمالی مفادات کے حصول کیلئے شہریوں کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں وفاقی درالحکومت کی تزئین آرائش اور خوبصورتی کیلئے لاکھوں روپے کا بجٹ لگایا جارہا ہے، تاہم اسلام آباد کے عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بااثر قبضہ مافیا سی ڈی اے اور اسلام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن (ڈی ایم اے) کے چندبدعنوان افسران کی سرپرستی میں واگزار کروائی جانے والے سرکاری اراضی اور گرین بیلٹس سے تناور درختوں اور ننھے پودوں کا قتل عام کرکے عارضی دکانیں، چھپر ہوٹل، اسٹال اور غیر قانونی ٹرانسپورٹ ٹرمینل سمیت دیگر تجاوزات قائم کردی گئی ہیں جس سے انسداد تجاوزات کارروائیاں بے فائدہ ہو کر رہ گئیں۔
ناجائز تجاوزات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ اسلام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن (ڈی ایم اے) کے چند بدعنوان اہلکاروں نے مبینہ طور پر مالی مفادات کے پیشِ نظر اسلام آباد کے تمام کاروباری مراکز کے فٹ پاتھوں اور راہداریوں پر اور پارکنگ ایریاز میں تجاوزات، فاسٹ فوڈ کے کیبن اور کرسیاں لگا کر رائٹ آف وے متاثر کیے ہیں۔
عوام کے مطابق سی ڈی اے شعبہ انفورسمنٹ نے تگڑی دیہاڑیاں لگانے کی خاطرآئی الیون منڈی موڑ پر واگزار کروائی جائے والی سرکاری اراضی پر لگی ہوئی کانٹے دار تار کو توڑ کرسیکڑوں عارضی دکانیں اور غیرقانونی بازارمبینہ طور پر کی جانے والی کرپشن کے واضح ثبوت ہیں۔
اس حوالے سے قبضہ مافیا سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے حکام کی اجازت کے بغیر دکان بنانا تو دور کی بات، کوئی آدمی کسی جگہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ شہری حلقوں نے صاحب اقتدار سے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی اور ناجائز تجاوزات ختم کیے جائیں تاکہ کلین اینڈ گرین پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکے۔ قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں لاکھوں کا جرمانہ وصول، تاجر سراپا احتجاج
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








