ناقص استرکاری، پیپلز بس سروس منصوبہ کرپشن کی نذر ہوگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ناقص استرکاری، پیپلز بس سروس منصوبہ کرپشن کی نذر ہوگیا
ناقص استرکاری، پیپلز بس سروس منصوبہ کرپشن کی نذر ہوگیا

سندھ حکومت کا پیپلز بس سروس منصوبہ ناکام ہونے کا خدشہ بس روٹس کی بحالی کا کام مبینہ کرپشن اور بدعنوانیوں کی نذر ہونے کا انکشاف ہوا ہے، میڈیا رپورٹس کے ڈیڑھ ارب لاگت سے کئے جانے والے استرکاری کے کاموں کو کراچی کے سینئر انجینئرز اور افسران سمیت سینئر کنٹریکٹرز نے بھی انتہائی ناقص اورانجینئرنگ اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

مبینہ غیر معیاری کاموں کے باعث کروڑوں لاگت سے خریدی گئیں جدید بسیں جو سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے شہریوں کو سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے چلائی گئی تھیں جلد ہی برباد ہونے کا امکان ہے۔

پیپلز بس سروس منصوبہ محکمہ بلدیات سندھ کے افسران کی مبینہ کرپشن اور بدعنوانیوں کے باعث بری طرح ناکام ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ محکمہ بلدیات سندھ کے لوکل گورنمنٹ پروجیکٹ میں تعینات امپورٹڈ افسران جو کہ عدالت عظمی کے احکامات کیخلاف دوسرے محکموں سے ڈیپوٹیشن پر لاکر تعینات کئے گئے ہیں، مذکورہ افسران نے مبینہ طور پر سندھ حکومت کے اہم ترین منصوبے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلز بس سروس کے روٹس کی بحالی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی استرکاری وتعمیر کیلئے سندھ حکومت نے ڈیڑھ ارب کا فنڈ مختص کررکھا ہے جس کا گذشتہ دنوں ٹینڈرنگ کا عمل ایمرجنسی کے نام پر مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ مذکورہ ڈیڑھ ارب لاگت کے کاموں کو 9 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلز بس سروس منصوبے کو کامیاب بنانے اور کروڑوں لاگت سے خریدی گئیں بسوں کو تباہی سے بچانے کیلئے بس روٹس پر موجود گڑھوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی استرکاری اور تعمیر کیلئے محکمہ لوکل گورنمنٹ پروجیکٹ کو ڈیڑھ ارب کا فنڈز جاری کیا گیا ہے، لوکل گورنمنٹ پروجیکٹ میں تعینات امپورٹڈ افسران نے ادارہ ترقیات اور کے ایم سی کے بعض انجینئرز جس میں بیشتر پروفیشنل انجینئرز بھی نہیں ہیں بلکہ بی ٹیک انجینئرز ہیں انہیں ان کاموں کی انجام دہی کیلئے مقرر کررکھا ہے۔

Related Posts