وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے سوئی سدرن اور سوئی نادرن کو باضابطہ طور پر ایک فریم ورک ارسال کیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے نئے گیس کنکشنز کے اجراء پر مستقل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس فیصلے کے تحت تین ملین سے زائد درخواستیں جو اب تک موصول ہو چکی ہیں، منسوخ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
فریم ورک کے مطابق سوئی سدرن اور سوئی نادرن صرف درآمدی گیس پر مبنی کنکشنز فراہم کر سکیں گے۔ تاہم اس عمل کو نو شرائط سے مشروط کیا گیا ہے۔
شہباز حکومت کا عوام کیلئے مہنگائی کا نیا جھٹکا؛ گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
ان شرائط کے تحت ہر سال پچاس فیصد صارفین کو کنکشن فراہم کیا جا سکے گا لیکن اس کے لیے صارفین کو ایمرجنسی فیس ادا کرنا ہوگی۔ جو صارفین یہ فیس ادا کریں گے انہیں تین ماہ کے اندر اندر درآمدی گیس کا نیا کنکشن مہیا کیا جائے گا۔
مزید یہ طے کیا گیا ہے کہ جن گھریلو صارفین کے کنکشن ایک سال سے زائد عرصے تک منقطع رہیں گے، انہیں درآمدی گیس کے نئے کنکشن دیے جائیں گے تاہم ان درآمدی کنکشنز کا ٹیرف گھریلو گیس کے مقابلے میں ستر فیصد زیادہ ہو گا۔
حکومتی فیصلے کے مطابق یہ اقدامات ملکی توانائی بحران اور گیس کی قلت پر قابو پانے کے لیے ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








