وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں آج یومِ پاکستان ملی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے۔
گزشتہ برس کورونا وائرس کے باعث یومِ پاکستان کی مناسبت سے ہونے والی پریڈ ملتوی کردی گئی تھی جو رواں برس 2 روز بعد یعنی 25 مارچ کو منعقد ہوگی۔
دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 جبکہ صوبائی دارالخلافوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔قائدِ اعظم کی روح سے تجدیدِ عہدِ وفا کی گئی۔
مسجدوں میں نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد ملک کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی و استحکام کی خصوصی دعائیں کی گئیں۔ عوام نے اللہ تعالیٰ سے نئے دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مدد مانگی۔
لاہور میں مزارِ اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقار تقریب منعقد ہوئی۔ پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ کے فرائض سنبھالے۔ علامہ اقبال ہمارے وہ قومی شاعر ہیں جنہوں نے مسلمانوں کیلئے الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مزارِ قائد پر حاضری دی۔ قائدِ اعظم کی روح کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھائے۔

قبل ازیں آئی ایس پی آر نے یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک قوم ایک منزل کے عنوان سے ایک ملی گیت بھی ریلیز کیا تھا جسے شائقین کی بڑی تعداد نے پسند کیا اور لائیکس سے نوازا۔
ہر سال یومِ پاکستان سن 1940ء میں منظور کی جانے والی قراردادِ پاکستان کی یاد میں منایا جاتا ہے، قرارداد کی یادگار کے طور پر مینارِ پاکستان کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔

یومِ پاکستان کس قدر اہم ہے، یہ سمجھنے کیلئے 1947ء میں حاصل کیے گئے وطن پاکستان کیلئے مسلمانانِ برصغیر کے جوش و جذبے کو سمجھنا ہوگا۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانوں نے اپنا وطن حاصل تو کر لیا لیکن آزادی کے ایک سال بعد ہی بابائے قوم دنیا سے رخصت ہو گئے، یہ بڑا عظیم سانحہ تھا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں














