اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سیکریٹری فوڈ سیکورٹی محمد آصف کو برطرف کرکے ملک میں گندم کی درآمد کے معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وزیراعظم نے سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ملک میں گندم کے ذخائر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے سوال کیا کہ گزشتہ سال اجناس کی اچھی پیداوار کے باوجود گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ؟۔
وزیراعظم نے وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی سے گزشتہ سال گندم کی درآمد کے بارے میں دریافت کیا۔
اس سال گندم کی بمپر فصل کی پیداوار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ گندم کی خریداری میں کوئی تاخیر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور کسانوں کو ان کی محنت کی فوری ادائیگی کی جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احد چیمہ، رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، جام کمال خان، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
دریں اثناء محمد فخر عالم کو سیکرٹری فوڈ سکیورٹی تعینات کر دیا گیا ہے جن کی تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل گندم کے درآمدی اسکینڈل سے متعلق ابتدائی رپورٹس میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے تھے۔
ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گندم کی غیر ضروری درآمد کے ذمہ دار وفاقی ادارے ہیں۔ پنجاب میں 40.47 لاکھ میٹرک ٹن کے موجودہ ذخائر کے باوجود 35.87 لاکھ میٹرک ٹن اضافی درآمد کرنے سے مصنوعی قلت پیدا ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور پاسکو کے افسران پرا سکینڈل میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ گندم 2600-2900 روپے فی من کے حساب سے درآمد کی گئی اور 4700 روپے فی من زیادہ قیمت پر فروخت ہوئی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ 10 لاکھ میٹرک ٹن کی درآمد کی اجازت دی گئی تھی لیکن یہ حد سے تجاوز کر گئی تھی۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی اداروں نے نجی کمپنیوں کو بغیر کسی چیکنگ کے گندم درآمد کرنے کی اجازت دی اور وزارت خزانہ کے بعض حکام بھی بڑے پیمانے پر درآمد کی جانچ پڑتال میں ناکام رہے۔
گندم کی درآمد 26 ستمبر 2023 سے 31 مارچ 2024 تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں گندم کی بڑے پیمانے پر آمد ہوئی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ مکمل رپورٹ تین دن میں حکومت کو پیش کر دی جائے گی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گندم کی درآمد سے قومی خزانے کو ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








