لیہ:وزیر اعظم عمران خان نے لیہ میں صحت انصاف کارڈ اسکیم کا افتتاح کردیا، اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ ریاست غریبوں کی مدد کرے تو اللہ خوش ہوتا ہے اور برکت دیتا ہے،جب پاکستان قائم ہوا تو اسے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ہم نے کبھی یہاں فلاحی ریاست نہیں دیکھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں، مقروض ہیں، قرضوں پر سود دینے میں ہی آدھا پیسہ چلا جاتا ہے،اس کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا اور پنجاب نے عوام کیلئے ہیلتھ انشورنس کا فیصلہ کیا۔
اس کی وجہ سے آپ لوگوں کے پاس پیسہ آئے گا،برطانیہ میں کسی غریب آدمی کے ساتھ ناانصافی ہوتو عدالت میں جانے پر مفت انصاف ملتا ہے، بچوں کو مفت تعلیم بھی ملتی ہے،ہمارے سرکاری اسکولوں میں جو تعلیم ملتی ہے اس سے کبھی غریب کا بچہ آگے نہیں آسکتا۔
پنجاب کی 2 ڈویژن کے خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز دیے جارہے ہیں،ہر خاندان کے پاس 7 لاکھ 20 ہزار روپے کی ہیلتھ انشورنس ہوگی، ملک کے کسی بھی ہسپتال سے علاج کرواسکیں گے،خواہش ہے ہر شہری کو صحت کارڈ کی سہولت میسر ہو۔
صحت انصاف کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرا ایمان یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے اس وقت بھی اگر آپ انسانیت کیلئے کوششیں کرتے ہیں ان کی بہتری کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ خوش ہوتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ ریاست غریب طبقے کی مدد کررہی ہے تو وہ اس معاشرے میں برکت ڈالتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ ریاست مدینہ میں جب پیسہ بھی نہیں تھا اس وقت ریاست نے اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لے کر دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی اور یہ دنیا گواہ ہے کبھی اتنا بڑا انقلاب نہیں آیا جو مدینہ کی ریاست لے کر آئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا بھی یہی موٹو ہے ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے، مقروض ہیں، قرضوں پر سود دینے میں ہی آدھا پیسہ چلا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا اور پنجاب نے عوام کے لیے ہیلتھ انشورنس کا فیصلہ کیا، اس کی وجہ سے آپ لوگوں کے پاس پیسہ آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پہلے پیسہ اکٹھا کریں گے پھر فلاحی ریاست بنائیں گے دوسرے وہ جو ہماری طرح کے ہوتے ہیں اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور سجھتے ہیں کہ پہلے ہم لوگوں کی خدمت کریں گے پھر اللہ پیسہ دے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب پاکستان قائم ہوا تو اسے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا لیکن ہم نے کبھی یہاں فلاحی ریاست نہیں دیکھی۔انہوں نے بتایا کہ جب میں 18 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ برطانیہ گیا تو وہاں 2 چیزیں نظر آئیں جو پاکستان میں نہیں تھی حالانکہ اس وقت پاکستان دنیا میں ایک مقام رکھتا تھا اور تیزی سے ترقی کررہا ہے۔
دنیا میں ہماری مثالیں دی جاتی تھیں اور دنیا میں کہیں بھی جانے کے لیے پاکستانیوں کو ویزوں کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔انہوں نے کہا برطانیہ میں پہلی چیز قانون کی حکمرانی دیکھی، وہاں کوئی شہزادہ شہزادی سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں تھا دوسرا پہلی مرتبہ فلاحی ریاست دیکھی جہاں کوئی بھی سرکاری ہسپتال میں مفت علاج ہوتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت میں نے پہلی مرتبہ سمجھا کہ فلاحی ریاست ہوتی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں کسی غریب آدمی کے ساتھ ناانصافی ہوتو عدالت میں جانے پر اسے مفت انصاف ملتا ہے، اگر اس کے پاس پیسہ نہیں وہ سرکاری اسکولوں میں جاتا ہے تو اس کے بچوں کو مفت تعلیم ملتی ہے اور وہ تعلیم جو اسے ملک کا وزیراعظم بنا سکے جبکہ ہمارے سرکاری اسکولوں میں جو تعلیم ملتی ہے اس سے کبھی غریب کا بچہ آگے نہیں آسکتا۔