وزیر اعظم شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب، مسئلہ کشمیر و فلسطین کے حل پر زور

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو

وزیر اعظم شہباز شریف جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نےاپنی تقریر قرآنی آیت سے شروع کی۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 79واں اجلاس جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دوسری بار جنرل اسمبلی اس خطاب کررہا ہوں، آج دنیا کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔

انھوں نے فلسطینیوں کی آواز کو بلند کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی، یوکرین جنگ، بھوک اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز ہیں، غزہ کے عوام کے حوالے سے پاکستانی قوم کو تکلیف ہے۔

اقام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے سوال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کیا ہم بحثیت انسان بچوں کو ملبے میں دفن ہوتا دیکھ کر خاموش رہ سکتے ہیں، یہ ایک سسٹم کے تحت معصوم افراد کا قتل ہے، ہمیں اسی وقت فیصلہ کرنا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ معصوم فلسطینیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، القدس الشریف آزاد فلسطین کا دار الحکومت ہوگا۔ فلسطین کو فوری طور پر اقوام متحدہ کا مستقل رکن بنائیں۔

وزیراعظم نے کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں اور کشمیر پر بھی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے، 9 لاکھ بھارتی فوجی جموں کشمیر کے عوام پر دہشت طاری کئے ہوئے ہیں۔ بھارتی کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کر رہا ہے، کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا بھارت کےناپاک عزائم ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ غیرمقامی افراد کو کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے، بھارت کو 5 اگست 2019 کو کئے اقدامات واپس لینا ہوں گے۔ بھارت کےجارحانہ عزائم سےخطے کے امن کو خطرات ہیں، بدقسمتی سے بھارت نے پاکستان کی مثبت تجاویز کا جواب نہیں دیا۔

وزیر اعظم نے خطاب میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قیمت چکائی ہے، 80 ہزار افراد اس جنگ میں شہید ہوئے، 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، ہم نے اپنے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سبق سیکھا ہے، ہم نے معاشی ترقی کی بحالی شروع کردی ہے، میری قوم کی ترقی اور استحکام میرا فوکس ہے۔

Related Posts