اسرائیل میں سیاسی بحران، نیتن یاہو کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بلوم برگ)

اسرائیل میں مذہبی طلبہ کو لازمی فوجی خدمات سے استثنیٰ نہ دینے پر سیاسی بحران سنگین شکل اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت خطرے میں دکھائی دینے لگی ہے۔

ذرائع کے مطابق مذہبی سیاسی جماعتوں میں شامل “یونائیٹڈ ٹوراہ جوڈازم (UTJ)” کے بعد اب “شاس پارٹی” کی جانب سے بھی حکومتی اتحاد چھوڑنے کا امکان شدید ہو گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ شاس جماعت جمعرات تک حکومت سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے۔

شاس پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جماعت کی قیادت اس حوالے سے “کونسل آف توراہ سیجز” کی حتمی ہدایات کی منتظر ہے۔ اطلاعات کے مطابق شاس کے مذہبی رہنماؤں کا اہم اجلاس بدھ یا جمعرات کو متوقع ہے، جس کے بعد باضابطہ فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یو ٹی جے کے ایک رکن پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے جبکہ گزشتہ شب باقی چھ ارکان نے بھی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا، جس کے بعد 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں وزیرِاعظم نیتن یاہو کی برتری محض ایک نشست تک محدود ہو گئی ہے۔

اب تمام نظریں 11 نشستوں کی حامل شاس پارٹی پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ اگر شاس بھی حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہوتی ہے تو نیتن یاہو حکومت کے پاس صرف 50 ارکان رہ جائیں گے۔

Related Posts