کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نے کارکنان سمیت لانڈھی ہائیڈرنٹ پر دھاوا بول دیا، ہائیڈرنٹ کے اندر موجود دفتر کے شیشے اور کیمرے بھی توڑ دئیے ، پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق واٹر بورڈ کا سرکاری لانڈھی ہائندرنٹ بند کروانے کیلئے اراکین اسمبلی کئی ماہ سے سرگرم ہیں، 6 ماہ قبل بھی پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی نے کارکنان کے ہمراہ لانڈھی ہائڈرنٹ پر دھاوا بول کر ہائیڈرنٹ بند کرانے کی کوشش کی تھی۔
پیپلز پارٹی کے کارکنان اور کئی مسلح افراد کے ساتھ رکن اسمبلی نے لانڈھی ہائیڈرینٹ زبردستی بند کرا دیا جس کی وجہ سے ٹینکروں کے ذریعے پانی کی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ہائیڈرنٹ سے لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل کالونی اور ملیر میں ٹینکر سروس دی جاتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سلیم بلوچ اور آغا رفیع اللہ ہائیدرنٹ پر کنٹرول چاہتے ہیں۔ اراکین اسمبلی کے لانڈھی ہائیدرنٹ پر حملے کی اطلاع پولیس اور رینجرز کو دے دی گئی مگر دونوں جانب سے کوئی مداخلت نہیں ہوئی جس سے ہائیڈرنٹ کو لاکھوں کا نقصان ہوا۔
لاکھوں روپے کے نقصان کے علاوہ بعض دستاویزات سمیت دیگر قیمتی اشیاء کے چوری ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔واضح رہے کہ واٹر بورڈ کے اینٹی تھیفٹ سیل کی ملی بھگت سے مذکورہ ہائیڈرنٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بعد ازاں ہائیڈرنٹ کے ٹھیکیدار نے سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی لے لیا تھا جس کے مطابق لانڈھی ہائیڈرنٹ کا آپریشن بند نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب واٹر بورڈ کے ہائیڈرنٹ سیل کے انچارج نعمت اللہ مہر واٹر بورڈ میں اپنی آخری اننگ کے دوران خوب کمائی کر رہے ہیں۔
انچارج نعمت اللہ مہر تمام ہائیڈرنٹس کے مالکان کو بڑے ٹرالر، کمرشل ٹینکر اور بلا ناغہ ہائیڈرنٹ چلانے کی اجازت دیکر مال سمیٹ رہے ہیں جنہوں نے ہائیڈرنٹ پر مذکورہ واقعہ پر معنی خیز خاموشی اختیار کر لی ہے۔ ہائیڈرنٹ مالکان پی پی پی کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔